سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ قُرَيْشٌ : " نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : قریش کہتے تھے کہ` ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں ، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) “ اتاری ۔
وضاحت:
۱؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ «حل» میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عرفات سے لوٹنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے) “ اتاری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے) “ اتاری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے لیے عرفات جانا ضروری ہے۔
(2)
شریعت میں اپنی طرف سے مسائل بنا لینا درست نہیں۔
(3)
حرم کے رہنے والوں کے لیے جو احکام دوسروں سے الگ ہیں، وہ واضح کردیے گئے ہیں، مثلاً: حج تمتع کی قربانی یا اس کے متبادل کے طور پر دس روزے رکھنے کا حکم اہل حرم کے لیے نہیں۔ (البقرة2: 192)
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے لیے عرفات جانا ضروری ہے۔
(2)
شریعت میں اپنی طرف سے مسائل بنا لینا درست نہیں۔
(3)
حرم کے رہنے والوں کے لیے جو احکام دوسروں سے الگ ہیں، وہ واضح کردیے گئے ہیں، مثلاً: حج تمتع کی قربانی یا اس کے متبادل کے طور پر دس روزے رکھنے کا حکم اہل حرم کے لیے نہیں۔ (البقرة2: 192)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3018 سے ماخوذ ہے۔