سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ باب: مزدلفہ کی رات میں فجر سے پہلے عرفات آنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الْحَجُّ ؟ ، قَالَ : " الْحَجُّ عَرَفَةُ ، فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ " ، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ ، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ .
´عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے ، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حج عرفات میں وقوف ہے ، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا ، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا ، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں (گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ)، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں “، پھر آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3015]
فوائد و مسائل:
(1)
وقوف عرفات حج کا اہم ترین رکن ہے۔
جس کو یہ رکن بروقت ادا کرنے کا موقع مل گیا اس کا حج فوت نہیں ہوگا۔
اور جو شخص اتنا لیٹ ہوگیا کہ وہ وقت پر وقوف عرفات نہیں کرسکا تو اس کا حج فوت ہوگیا۔
اگر استطاعت ہوتو دوبارہ حج کرے۔
(2)
وقوف عرفات کا اصل وقت نو ذوالحجہ کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک ہے۔
اس عرصے میں اگر کسی شخص نے چند منٹ بھی عرفات میں گزارلیے تو اس کا یہ رکن ادا ہوگیا۔
(3)
جو شخص سورج غروب ہونے تک عرفات میں نہ پہنچ سکے وہ رات کو صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے عرفات میں حاضر ہوجائے تو اس کا بھی حج ادا ہوجائے گا۔
اس کو چاہیے کہ عرفات میں تھوڑی دیر ٹھہر کر مزولفہ آ جائے اور باقی رات وہیں گزارے۔
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ (میں قیام) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2975]
وضاحت: 1؎ اس میں ارشاد باری تعالیٰ: ﴿وَاذْكُرُواْ اللّهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ کی طرف اشارہ ہے (البقرۃ: 203)۔
2؎:
یعنی: بارہ ذی الحجہ ہی کو رمی جمار کر کے واپس ہو جائے یا تین دن مکمل قیام کر کے تیرہ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی (کنکری مار) کر کے واپس ہو جائے حاجی کو اختیار ہے۔
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ۱؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ۲؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 889]
1؎:
یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہو جانے سے حج فوت ہو جاتا ہے۔
2؎:
یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے اور حج کے فوت ہو جانے سے مامون و بے خوف ہو گیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہو گیا اور اسے اب کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک اہم رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہو سکتا ہے۔
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: ” حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے (عرفات میں) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ)، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں “، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1949]
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہو گیا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3019]
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ” حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
(2) ”اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“ بلکہ ثواب ہوگا۔ گناہ کی نفی پہلے جملے کی مناسبت سے ہے، ورنہ ٹھہرنا گناہ کا احتمال نہیں رکھتا، البتہ جلدی چلے جانے میں گناہ کا احتمال ہو سکتا تھا۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ عرفات میں پہنچنا حج کا رکن ہے، اور وہاں طلوع فجر سے پہلے پہنچنا فرض ہے، اور ایام منٰی کے تین دنوں سے مراد گیارہ بارہ اور تیرہ ذوالحجہ ہے۔