حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، يَقُولُ : عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ ، فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں ، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے ، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے ، اور فرماتا ہے : میرے ان بندوں نے کیا چا ہا “ ؟ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی کس چیز کی خواہش اور طلب میں اس قدر لوگ اس میدان میں جمع ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: تیری مغفرت چاہتے ہیں، اور تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے میں نے ان کو بخش دیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3014
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 79 ( 1348 ) ، سنن النسائی/الحج 194 ( 3006 ) ، ( تحفة الأشراف : 16131 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3006 | صحيح مسلم: 1348

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عرفات میں دعا کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا ؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3014]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عرفے کے دن اللہ کی رحمت کا دن ہے، اس لیے اس دن روزہ رکھنا مسنون ہے، تاہم حاجیوں کے لیے یہ روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے عرفات میں یہ روزہ نہیں رکھا تھا۔ (صحيح البخاري، الصوم، باب صوم يوم عرفة، حديث: 1988)

(2)
اللہ کا قریب ہونا اور کلام کرنا اس کی صفت ہے جس کی کیفیت بندوں کو معلوم نہیں۔
صفات الہی پر ایمان رکھنا چاہیے لیکن ان صفات کو بندوں کی صفات سے مشابہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

(3)
حج میں بندے اللہ کی رضا اور رحمت کے حصول کے لیے عرفات میں جمع ہوتے ہیں، اس لیے انھیں یہ رحمت و مغفرت حاصل ہوجاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3014 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3006 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´یوم عرفہ کی فضیلت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل عرفہ کے دن جتنے غلام اور لونڈیاں جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں کرتا، اس دن وہ اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے، اور ان کے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے یہ یونس (جن کا اس روایت میں نام آیا ہے) یونس بن یوسف ہوں، جن سے مالک نے روایت کی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3006]
اردو حاشہ: (1) غلام لونڈیاں مراد عام مرد و عورت ہیں کیونکہ سب انسان اللہ تعالیٰ کے لیے غلام لونڈیاں ہی ہیں۔
(2) آگ سے آزاد یعنی جن کے لیے گناہوں کی وجہ سے آگ مقدر تھی، اللہ تعالیٰ ان کے لیے معافی فرماتا ہے۔ نتیجتاً وہ قیامت کے دن آگ سے بچ جائیں گے۔ چونکہ معافی یوم عرفہ کو ہوتی ہے، اس لیے آزادی کی نسبت اس کی طرف کر دی ورنہ اصل آزادی تو قیامت کے دن ہوگی۔ ممکن ہے فوت شدگان کو بھی اللہ تعالیٰ اس دن عذاب قبر سے معافی اور آزادی عطا فرماتا ہو۔
(3) مزید قریب اللہ تعالیٰ اپنے افعال و صفات میں مختار ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے قریب آنے میں کوئی اشکال نہیں جیسے اس کی شان کو لائق ہے۔ بعض حضرات نے چند مزعومہ اور بے بنیاد اصولوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو اتنا مجبور و بے بس (معاذ اللہ) بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی کرنے کی ممنوع سمجھتے ہیں۔ ہمارا اللہ گناہ گاروں کا رب اور بے بسوں کا رب، سب مخلوق کا رب اتنا بے بس اور مجبور نہیں ہو سکتا کہ نہ وہ کسی پر ترس کھا سکے، نہ کسی سے سرگوشی کر سکے، نہ کلام کر سکے، نہ خوش ہو سکے، نہ قریب آسکے اور نہ عرش پر فروخش ہو سکے، لہٰذا تاویلات کی کوئی ضرورت نہیں، ہاں جب اللہ تعالیٰ قریب ہوگا تو رحمت الٰہی خواہ مخواہ قریب ہوگی۔ اس کا انکار نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3006 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1348 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا، اور وہ قریب ہوتا ہے، اور فرشتوں کے سامنے (وہاں موجود) لوگوں پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے، یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3288]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مصنف عبدالرزاق میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے۔
جس سے اس حدیث کا صحیح معنی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور فرشتوں کو فرماتا ہے میرے یہ بندے پراگندہ بال، خاک آلود آئے ہیں میری رحمت کے اُمید وار ہیں میرے عذاب سے خوفزدہ ہیں حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے اگر یہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا۔
اس فخرومباہات کے اظہار کے بعد ان سے پوچھتا ہے، آخر ان لوگوں نے اپنا گھر بار، اہل و عیال، کاروبار کس مقصد کے لیے چھوڑا ہے اپنے مال، وقت کوخرچ کرکے، سفرکی صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہوئے کیوں آئے ہیں، یعنی میری بخشش، رضا مندی اورقرب ولقاء کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہو سکتا۔
صرف مجھے راضی کرنے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے آئے ہیں، تاکہ انہیں میرا تقرب حاصل ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1348 سے ماخوذ ہے۔