سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ باب: عرفات میں دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ ، فَأُجِيبَ : إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الظَّالِمَ ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ ، قَالَ : " أَيْ رَبِّ ، إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ " ، فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : تَبَسَّمَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا ، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ ؟ ، قَالَ : " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لِأُمَّتِي ، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ " .
´عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا ، سوائے ان کے جو ظالم ہوں ، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے رب ! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے “ ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی ، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے ، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا : ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے ، اور میری امت کو بخش دیا ہے ، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا : ہائے خرابی ، ہائے تباہی ! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی “ ۔