حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا ؟ ، قَالَ : " لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3006
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/المناسک 89 ( 2019 ) ، سنن الترمذی/الحج 51 ( 881 ) ، ( تحفة الأشراف : 17963 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/187ٕ 206 ) ، سنن الدارمی/المناسک 87 ( 1980 ) ( ضعیف ) » ( ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : ضعیف أبی داود : 345 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 881 | سنن ابي داود: 2019 | سنن ابن ماجه: 3007

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 881 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´منیٰ اسی کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے۔ آپ نے فرمایا: نہیں ۱؎، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 881]
اردو حاشہ:
1؎:
کیونکہ منی کو کسی کے لیے خاص کرنا درست نہیں، و ہ رمی، ذبح اور حلق وغیرہ عبادات کی سر زمین ہے، اگر مکان بنانے کی اجازت دے دی جائے تو پورا میدان مکانات ہی سے بھر جائے گا اور عبادت کے لیے جگہ نہیں رہ جائے گی۔

نوٹ:
(یوسف کی والدہ ’’مسیکہ’’ مجہول ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 881 سے ماخوذ ہے۔