سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ باب: تنعیم سے عمرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ ، لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " ، قَالَتْ : فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ : فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " دَعِي عُمْرَتَكِ ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا ، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے ، پکارے ، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا “ ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا ، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے ، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا ، اور میں حیض سے تھی ، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا عمرہ چھوڑ دو ، اور اپنا سر کھول لو ، اور بالوں میں کنگھا کر لو ، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو “ ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر جب محصب کی رات ( بارہویں ذی الحجہ کی رات ) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا ، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے ، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا ، ہم پر نہ «هدي» ( قربانی ) لازم ہوئی ، نہ صدقہ دینا پڑا ، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا "، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3000]
فوائد و مسائل:
(1)
تنعیم ایک مقام ہے جو مکہ سے قریب ترین ہے۔
آج کل اسے مسجد عائشہ کہتے ہیں۔
(2)
نبی اکرمﷺ تیرہ ذوالحجہ کو رمی جمرات سے فارغ ہوکر منی سے روانہ ہوئے اور وادی ابطح یعنی خیف بنی کنانہ میں ٹھہرے۔
اسی کو وادئ خصب بھی کہتے ہیں۔
رسول اللہﷺ نے اس دن ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں اسی مقام پر ادا کیں۔
اور عشاء کے بعد کچھ آرام فرما کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئےاور طواف وداع ادا فرمایا۔ (الرحیق المختوم ص: 620)
(3)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا لیکن عذر حیض کی وجہ سے عمرہ کیے بغیر حج کا احرام باندھنا پڑا۔
اس طرح کی صورت حال میں عمرے کے اعمال اد ا کیے بغیر حج اور عمرہ دونوں ادا سمجھے جاتے ہیں۔
(4)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ وہ باقاعدہ عمرہ بھی ادا کریں چنانچہ رسول اللہﷺ نے انہیں ان کے بھائی کے ساتھ عمرے کے لیے بھیج دیا۔
یہ رسول اللہﷺ کا اپنی زوجہ محترمہ سے حسن سلوک کا اظہار تھا۔
(5)
تنعیم یا مسجد عائشہ کوئی میقات نہیں ہے۔
رسول اللہﷺ نے صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی دل جوئی کے لیے ان کو وہاں سے احرام باندھ کر آ کر عمرہ کرنے کی اجازت دی تھی۔
اس سے زیادہ سے زیادہ ایسی ہی (حائضہ)
عورتوں کے لیے عمرے کی اجازت ثابت ہوتی ہے نہ کہ مطلقاً ہر شخص کے لیے وہاں سے احرام باندھ کر بار بار عمرہ کرنے کی جیسا کہ بہت سے لوگ وہاں ایسا کرتے ہیں اور اسے چھوٹا عمرہ قرار دیتے ہیں۔
یہ رواج یا استدلال بے بنیاد ہے۔
(6)
حج کے بعد عمرہ کرنے سے حج تمتع نہیں بنتا بلکہ حج سے پہلے عمرہ کرنے سے حج تمتع بنتا ہے۔
پہلے عمرے کی وجہ سے قربانی دی گئی اس دوسرے عمرے کی وجہ سے کوئی قربانی نہیں دی گئی۔
نہ اس کا متبادل فدیہ روزوں کی صورت میں ادا کیا گیا۔
1۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غسل حیض میں سر کھولنا ہوگا، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ سر نہ کھولنے کا تخفیفی حکم صرف غسل جنابت میں ہے، کیونکہ جنابت کثرت سے پیش آتی ہے، جبکہ غسل حیض مہینے میں ایک مرتبہ کرنا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ عورتیں غسل حیض کے وقت کےصفائی ونظافت کا پورا پورا اہتمام کرتی ہیں۔
جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے شرح تراجم ابواب میں ذکر کیا ہے۔
2۔
مدینے سے روانہ ہوتے وقت عام لوگوں کا یہی خیال تھا کہ ہم صرف حج کریں گے، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں یہ ایام (اَشهُر حج)
حج کے لیے مخصوص سمجھے جاتے تھے اور ان دنوں میں عمرہ کرنے کو بدترین گناہ خیال کیا جاتا تھا۔
اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے قبل ازیں ماہ ذوالقعدہ میں تین دفعہ عمرہ کر کے اس خیال کو عملی طور پر باطل قراردے دیا تھا، مگر آپ نے ان عمروں میں حج ساتھ نہیں کیا تھا، چونکہ یہ روانگی حج کے لیے تھی، اس لیے آپ نے اس کی وضاحت فرمادی اس کے علاوہ آپ نے مزید فرمایا کہ مجھے ایک مجبوری ہے میرے ساتھ قربانی کا جانور ہے اس لیے صرف عمرے کا احرام نہیں باندھ سکتا، اس لیے میری حالت کو نہ دیکھا جائے، بلکہ ہر انسان اپنی اپنی صوابدید کے مطابق عمل کرے۔
3۔
حضرت ہشام نے ان تمام باتوں میں ہدی روزہ اور صدقہ وغیرہ کی نفی کی ہے، کیونکہ ایسی چیزیں کسی جنابت کے ارتکاب پر ہوتی ہیں۔
عائشہ ؓ کے ذمے کوئی دم جنابت لازم نہیں آیا، کیونکہ حیض کا آجانا عذر سمادی تھا۔
اس میں ان کے اختیارکوکوئی دخل نہ تھا جبکہ ہدی وغیرہ کسی فعل اختیاری کی وجہ سے ہوتی ہے،4۔
اس حدیث سے متعلقہ دیگر احکام کتاب الحج میں بیان ہوں گے بإذن اللہ۔
1۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس عنوان کا مقصد بایں الفاظ متعین فرمایا ہے کہ آیا حائضہ حج یا عمرے کا احرام باندھ سکتی ہے یا نہیں؟اور عنوان میں لفظ کیف سے کوئی خاص کیفیت مراد نہیں، بلکہ موجودہ صورتحال کو استفہام کے انداز میں بیان کرنے کے لیے کیف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
اس تقریر سے ان لوگوں کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ حدیث اور عنوان میں مطابقت نہیں، کیونکہ حدیث میں کسی خاص کیفیت کا تذکرہ نہیں ہے جس سے عنوان ثابت ہوتا ہو۔
(فتح الباري: 543/1)
2۔
اس کے بعد حافظ ابن حجر نے اس روایت سے ثابت کیا ہے کہ حائضہ عورت دوران حیض میں احرام باندھ سکتی ہے، لیکن لغوی لحاظ سے لفظ (كَيْفَ)
حالت سے متعلق سوال کرنے کے لیے آتا ہے، اس لیے عنوان کا مطلب یہ ہے کہ حائضہ کس حالت و کیفیت کے ساتھ احرام باندھے؟ یعنی غسل کر کے احرام باندھے یا غسل کے بغیر ہی احرام باندھ لے؟ روایت سے ثابت ہوا کہ حائضہ غسل کر کے احرام باندھے۔
جیسا کہ ایک روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الحج, حدیث: 2937 (1213)
ویسے بھی سر کھولنا اور کنگھی کرنا غسل سے کنایہ ہیں۔
اس عنوان کی ضرورت اس لیے ہے کہ حیض کی حالت میں غسل کرنے سے طہارت حاصل نہیں ہوگی اس لیے حائضہ کا غسل کرنا چہ معنی وارد؟روایت سے پتہ چلا کہ حائضہ کا غسل کرنا فائدے سے خالی نہیں، کیونکہ غسل کرنا احرام کی سنت ہے کم ازکم وہ تو حاصل ہو جائے گی۔
اس لیے حائضہ کو چاہیے کہ حالت حیض میں اس سنت کو ترک نہ کرے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ احرام کےوقت غسل کرنا نظافت و صفائی کے لیے ہے، خاص طور پر حائضہ عورت کے لیے بطور طہارت نہیں، کیونکہ خون حیض کے انقطاع سے پہلے طہارت کا حصول ممکن ہی نہیں لہٰذا حائضہ کو چاہیے کہ وہ احرام سے پہلے غسل نظافت کرے۔
علیحدہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔
اس میں حنفیہ کا اختلاف ہے۔
یہ حدیث کتاب الحج میں گزر چکی ہے لیکن صرف اس لیے لائے کہ اس میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے۔
اس حدیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس مقام پر اسے بیان کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سفر میں حج میں حضرت عائشہ ؓ نے تین دفعہ رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی جس کی تفصیل کچھ یوں ہے: ایک دفعہ مقام سرف میں جب آپ کو حیض آگیا تھا۔
جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رورہی تھیں۔
آپ ﷺ نے انھیں تسلی دی کہ یہ معاملہ اللہ کی طرف سے ہے جو آدم ؑ کی بیٹیوں کے بارے میں طے شدہ ہے۔
آپ بیت اللہ کا طواف نہ کریں باقی مناسک حج ادا کرتی رہیں۔
دوسری مرتبہ اس وقت آپ سے شکوہ کیا جب آپ منیٰ کی طرف آٹھ ذوالحجہ کو جارہے تھے، جس کا اس حدیث میں ذکر ہے تو آپ نے فرمایا: "سر کےبال کھول دواور ان میں کنگھی کرلو۔
" تیسری مرتبہ اس وقت شکایت کی جب آپ تیرہ(13)
تاریخ کو مدینہ طیبہ روانہ ہونے کے لیے تیاری کررہے تھے تو عرض کی کہ لوگ تو حج اورعمرہ دو، دوعبادتوں کا ثواب لے کرجارہے ہیں جبکہ میں صرف حج کے ثواب کی مستحق ہوئی توآپ نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ کے ہمراہ انھیں تنعیم روانہ کیا کہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لیں اور عمرہ کرلیں۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1561)
«. . . أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا، فَقَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ . . .»
". . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے (حجۃ الوداع کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے۔ (پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2952]
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں مہینے کے آخری میں سفر کرنے کے متعلق باب قائم فرمایا اور جو حدیث پیش فرمائی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: «خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس ليال بقين من ذي القعدة.»
"ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت نکلے جب ذی القعدہ کے پانچ روز باقی تھے۔"
یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت واقع ہو رہی ہے کیونکہ ذی القعدہ کے آخری پانچ روز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کا قصد فرمایا۔ دراصل امام بخاری رحمہ اللہ ان لوگوں کی تردید فرما رہے ہیں جو کہ مہینے کے آخر میں سفر کرنے کو نحوست خیال کرتے ہیں، اس قسم کے مذموم قائدے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے ہوا کرتے تھے، امام بخاری رحمہ اللہ ان کا رد فرما رہے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «أي ردا على من كره ذالك من طريق الطيرة، وقد نقل ابن بطال أن أهل الجاهلية كانو يتطيرون أوائل الشهور الأعمال، و يكرهون التصرف فى محاق القمر.» [فتح الباري، ج 6، ص: 141]
یعنی امام بخاری رحمہ اللہ ان کا رد فرما رہے ہیں جو مہینے کے آخری ایام میں سفر کو منحوس خیال کرتے ہیں، اور ابن بطال رحمہ اللہ نے نقل فرمایا کہ اہل جاہلیت یہ خیال کرتے کہ اگر مہینے کے آخر میں آدمی سفر کیلئے روانہ ہوتا ہے تو عمر گھٹ جاتی ہے، اور ہمارا کام گھاٹے میں آ جاتا ہے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الرد على من يزعم من القائلين متأثير الكواكب أن الحركة آخر الشهر فى محاق القمر مذمومة» [المستواري، ص: 161]
امام بخاری رحمہ اللہ کا یہاں ان لوگوں کا رد مقصود ہے جو مہینے کے آخر میں سفر کرنے کو مذموم قرار دیتے ہیں ستاروں کی حرکت و تاثیر کی وجہ سے۔
(قلت) میں سمجھتا ہوں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کی بھی تردید فرمائی ہے جس کا ذکر امام حسان الدین الہندی (المتوفی 975) نے بھی اپنی کتاب «كنز العمال» میں ذکر فرمایا ہے۔ «"اقترب" آخر أربعا و فى الشهر يوم نحس و مستمر.» [كنز العمال، ج 2، ص: 11، رقم: 931]
یعنی مہینے کے آخری چار دن منحوس ہوا کرتے ہیں۔ (جن کا یہ عقیدہ ہے) امام بخاری رحمہ اللہ ان لوگوں کا رد فرما رہے ہیں۔
ایک اشکال کا جواب: صحیح بخاری کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر نکلے اس وقت ذیقعدہ کے پانچ دن رہتے تھے۔ پچیسویں تاریخ کو مدینے سے نکلے اور ذی الحجہ کو چوتھی تاریخ کو مکہ پہنچے۔
اب جو یہاں تعارض اور اشکال کی صورت پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر حج کے لئے ہفتہ کے دن نکلے تھے تو ذیقعدہ کے چار دن باقی بچتے تھے، اس لئے کہ ذی الحجہ کی یکم تاریخ جمعرات کے دن تھی اور وہ وقف عرفہ جمعہ کا روز تھا، اور اگر سفر کی ابتداء جمعرات کو ہوتی ہے تو ذیقعدہ کے چھ روز باقی بچے تھے، سفر کی ابتداء کیلئے جمعہ کا دن تو قطعا نہیں بنتا اسی لئے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: «صلى الظهر بالمدينة أربعا» اور ظاہر ہے ظہر کی نماز جمعہ کے دن نہیں پڑھی جاتی تو «لخمس بقين» کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «و أجيب بأن الخروج كان يوم السبت، و انما قالت عائشة: "لخمس بقين" بناء على العدد، لأن ذوالقعدة كان أوله الأربعا فاتفق أن جاء ناقصا . . .» [فتح الباري، ج 6، ص: 142]
یعنی یوم الخروج ہفتہ کے دن کو بھی سفر کے ایام میں شمار کیا جائے تو بھی معنی ٹھیک ہو سکتے ہیں اگرچہ نکلتے نکلتے دوپہر ہو چکی تھی لیکن تیاری تو پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی، گویا انہوں نے جب تیاری مکمل کر لی تو ہفتہ کی شب کو انہوں نے ایام سفر کو شمار کیا تو یہ پانچ دن ہو گئے۔ بالکل اسی طرح سے تطبیق بدرالدین بن جماعۃ رحمہ اللہ نے بھی دی ہے۔ دیکھئے: [مناسبات تراجم البخاري، ص: 87-88]
پس جہاد کے لئے بھی امام جیسا موقع دیکھے سفر شروع کرے۔
اگر مہینہ کے آخری دنوں میں نکلنے کا موقع مل سکے تو یہ اور بہتر ہوگا کہ سنت نبوی پر عمل ہوسکے گا۔
بہرحال یہ امام کی صواب دید پر ہے۔
روایت میں حضرت امام مالک ؒ کا نام آیا ہے‘ جن کا نام مالک بن انس بن مالک بن عامر اصجی ہے۔
ابو عبداللہ کنیت ہے‘ إمام دارلحجرة و أمیر المؤمنین في الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں ان کے دادا عامر اصجی صحابی ہیں جو بدر کے سوا تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
امام صاحب ۹۳ھ میں پیدا ہوئے۔
تبع تابعین میں سے ہیں۔
اگرچہ مدینہ مولد و مسکن تھا مگر کسی صحابی کے دیدار سے مشرف نہیں ہوئے۔
یہ شرف کیا کم ہے کہ إمام دار الھجرة تھے۔
حرم محترم نبیﷺ کے مدرس و مفتی نافع ربیعہ رائی‘ امام جعفر صادق اور ابو حازم وغیرہ بہت شیوخ سے علم حاصل کیا جن کی تعداد نو سو بیان کی گئی ہے۔
نافع نے وفات پائی تو امام صاحب ان کے جانشین ہوئے‘ اس وقت آپ کی سترہ سال کی عمر تھی۔
امام صاحب کی جائے سکونت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا مکان اور نشست گاہ حضرت عمر ؓ کا مکان تھا۔
امام صاحب کی مجلس درس نہایت آراستہ وپیراستہ ہوتی تھی۔
سب لوگ مؤدب بیٹھتے تھے‘ امام صاحب غسل کرکے خوشبو لگا کر عمدہ لباس پہن کر نہایت وقار و متانت سے بیٹھتے تھے‘ خلیفہ ہارون رشید خود حاضر درس ہوتا تھا‘ عالم شرق سے غرب تک امام صاحب کے آوازہ شہرت سے گونج اٹھا۔
شیخ عبدالرحمن بن مہدی کا قول ہے کہ روئے زمین پر مالک سے بڑھ کر کوئی حدیث نبوی کا امانت دار نہیں۔
امام صاحب نے ایک لاکھ حدیثیں لکھی تھیں ان کا انتخاب مؤطا ہے (مقدمہ شرح مؤطا)
امام صاحب سخی و عابد و مرتاض تھے۔
اہل علم کی بہت مدد کرتے تھے‘ امام شافعیؒ کو گیارہ ہزار دیتے تھے‘ امام صاحب کے اصطبل میں بہت سے گھوڑے تھے مگر کبھی گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ میں نہ نکلتے تھے۔
فرمایا کرتے تھے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ جو زمین رسول کریمﷺ کے قدم مبارک سے مشرف ہوئی ہے اس کو میں جانوروں کے سموں سے روندوں۔
امام صاحب کے تلامذہ کی تعداد تیرہ سو ہے‘ ان میں بڑے بڑے ائمہ اور محدثین اور امراء شامل ہیں۔
مالکی مذہب کی پیروی کرنے والے عرب اور شمالی افریقہ میں ہیں۔
امام مالک کی بہت سی تصانیف ہیں زیادہ مشہور مؤطا ہے۔
کتاب المسائل ہیں۔
خلیفہ ابو العباس سفاح کے سامنے بہت سے منتشر اوراق پڑھے تھے جن کے متعلق خلیفہ نے کہا کہ یہ امام مالک کے ستر ہزار مسائل کا مجموعہ ہے۔
(تزئین المالك)
جس حدیث کا سلسلہ روایت مالک عن نافع عن ابن عمر ہوگا‘ اس کو سلسلۃ الذہب کہتے ہیں۔
جعفر گورنر مدینہ نے امام صاحب کو حکم دیا کہ آئندہ طلاق (جبری)
کا فتویٰ نہ دیا کریں‘ امام صاحب کو کتمان حق گوارا نہ ہوا۔
تعمیل حکم نہ کی‘ جعفر نے غضب ناک ہو کر ستر کوڑے لگوائے۔
تمام پیٹھ خون آلود ہوگئی‘ دونوں ہاتھ مونڈھوں سے اتر گئے۔
خلیفہ منور جب مدینہ آیا تو امام صاحب سے عذر کیا اور کہا مجھ کو آپ کی تعزیر کا علم نہیں۔
میں جعفر کو سزا دوں گا۔
امام صاحب نے فرمایا میں نے معاف کیا‘ ۱۷۹ھ میں وفات پائی‘ ابن مبارک و یحییٰ قطان ان کے شاگرد تھے۔
امام صاحب اپنے اس شعر کو اکثر پڑھا کرتے تھے جس میں انہوں نے ایک حدیث کے مضمون کو لیا ہے۔
خیر الأمور الدین ما کان سنته وشر الأمور المحدثات البدایع
1۔
بعض جاہل لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مہینے کے آغاز میں سفرکرنا چاہیے،مہینے کے آخر میں سفر کرنا نحوست کا باعث ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس غلط عقیدے کی تردید کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفرحج کے لیے ماہ ذی القعدہ کے آخر میں روانہ ہوئے۔
اگراس وقت سفر کرنا منحوس ہوتا تو آپ ایسا کیوں کرتے۔
اس سفر کا تعلق اگرچہ حج سے ہے مگر جہاد کے سفر کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
2۔
حسب موقع اگر مہینے کے آخر میں سفر جہاد کے لیے نکلنا پڑے تواس میں کوئی حرج نہیں۔
بہرحال یہ امام اور فوج کے قائد کی صوابدید پر موقوف ہے۔
اگرمہینے کے آخری دنوں میں سفر کرنے کا موقع ملے تو یہ مزید بہتر ہوگا کیونکہ سنت پر عمل ہوسکے گا۔
واللہ أعلم۔
حج تمتع کی نیت سے احرام باندھنا بہتر ہے۔
جس میں حاجی مکہ شریف پہنچ کر فورا ہی عمرہ کر کے احرام کھول دیتا ہے اور پھر آٹھویں ذی الحجہ کو از سر نو حج کا احرام باندھ کرمنیٰ کا سفر شرو ع کرتا ہے۔
اس احرام میں حاجی کے لیے ہر قسم کی سہولتیں ہیں۔
حج قران جس میں عمرہ پھر حج ایک ہی احرام سے کیا جاتا ہے اور خالی حج ہی کی نیت کر ناحج افراد کہلاتاہے۔
ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، پھر یہی حدیث بیان کی۔
اس میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع (کے لیے ہم نکلے)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ہم سے امام مالک نے بیان کیا، اسی طرح جو پہلے مذکور ہوا۔
حج کی تین قسمیں ہیں: حج تمتع، حج قرآن اور حج افراد۔
حاجی کو اختیار ہے کہ وہ حج کی جس قسم کی چاہے نیت کرے لیکن ان میں حج تمتع افضل ہے۔
جس میں حاجی مکہ مکرمہ پہنچ کرعمرہ کرکے احرام کھول دیتا ہے، پھرذوالحجہ کو آٹھ تاریخ کوحج کا احرام باندھ کر منیٰ کاسفر شروع کرتا ہے۔
اس احرام میں حاجی کےلیے ہر قسم کی سہولتیں ہیں۔
حج قرآن جس میں عمرہ پھر حج ایک ہی احرام سے کیاجاتا ہے۔
صرف حج کی نیت کرناحج افراد ہے۔
چونکہ اس حدیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیاہے۔
امام مسلم اور ابوداؤد کی روایتوں میں ایسا ہی ہے۔
(1)
حضرت عائشہ ؓ سے مروی اس حدیث میں یہ تصریح نہیں ہے کہ انہوں نے طواف عمرہ کے بعد طواف وداع نہیں کیا۔
غالبا امام بخاری ؒ نے اسی وجہ سے عنوان میں یقینی پہلو اختیار نہیں کیا بلکہ استفسار تک محدود رکھا ہے۔
(2)
ابن بطال نے کہا: اس بات پر اتفاق ہے کہ عمرہ کرنے والا شخص جو طواف کرے اور اپنے شہر کو روانہ ہو جائے تو وہی طواف وداع کے لیے کافی ہو گا جیسا کہ ام المومنین ؓ نے کیا تھا، اس کے لیے دوبارہ طواف کرنے کی ضرورت نہیں۔
(فتح الباري: 772/3) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف میں اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو فسخ احرام کا حکم دیا تھا کہ وہ اسے عمرے میں بدل لیں اور یہ مقام مکہ مکرمہ سے باہر ہے جبکہ دیگر روایات میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد حج کے احرام کو فسخ کر کے عمرے کے احرام کا حکم دیا تھا۔
اس میں تطبیق یہ ہے کہ ممکن ہے کہ آپ نے متعدد بار یہ حکم دیا ہو۔
(فتح الباري: 772/3)
یہیں سے ترجمہ باب نکلا کہ حیض والی عورت کو صرف حج کا احرام باندھنا درست ہے، وہ احرام کا دوگانہ نہ پڑھے۔
صرف لبیک پکارکر حج کی نیت کرلے۔
اس روایت سے صاف یہ نکلا کہ حضرت عائشہ ؓ نے عمرہ چھوڑدیا اور حج مفرد کا احرام باندھا۔
حنفیہ کا یہی قول ہے اور شافعی کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ عمرہ کو بالفعل رہنے دے۔
حج کے ارکان ادا کرنا شروع کردے، تو حضرت عائشہ ؓ نے قران کیا، اور سرکھولنے اور کنگھی کرنے میں احرام کی حالت میں قباحت نہیں۔
اگر بال نہ گریں مگر یہ تاویل ظاہر کے خلاف ہے۔
(وحیدی)
وأما الذین جمعوا الحج والعمرة سے معلوم ہوا کہ قارن کو ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے اور عمرے کے افعال حج میں شریک ہوجاتے ہیں۔
امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔
اس کے خلاف کوئی پختہ دلیل نہیں۔
(1)
حضرت عائشہ ؓ کو تین ذوالحجہ بروز ہفتہ مقام سرف پر حیض آیا اور دس ذوالحجہ بروز ہفتہ وہ حیض سے پاک ہو گئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر حضرت عائشہ ؓ کو عمرہ چھوڑ دینے کا حکم دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ حیض والی عورت کو صرف حج کا احرام باندھنا چاہیے، وہ لبیک پکار کر حج کی نیت کرے۔
(2)
بعض حضرات کہتے ہیں کہ وہ عمرہ کو بالفعل رہنے دے اور حج کے ارکان شروع کر دے، اس دوران میں سر کھولنے اور کنگھی کرنے سے احرام ختم نہیں ہو گا، مگر یہ موقف ظاہر حدیث کے خلاف ہے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے فراغت حج کے بعد عمرہ دوبارہ کیا تھا۔
اسی طرح جن لوگوں نے حج قران کی نیت کی ہو انہیں ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے کیونکہ عمرے کے افعال حج میں شامل ہو جاتے ہیں۔
جمہور علماء کا یہی موقف ہے جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے۔
واللہ أعلم
(1)
امام بخاری ؒ نے اس طویل حدیث سے صرف یہ ثابت کیا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھنا چاہیے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج کے مہینوں، حج کی راتوں اور حج کے احرام میں روانہ ہوئے۔
اس اسلوب بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں حج کے مہینوں میں حج کا احرام باندھنا معروف تھا۔
حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھنا صحیح نہیں۔
حضرت ابن عمر، ابن عباس، جابر بن عبداللہ ؓ اور دیگر صحابہ کرام و تابعین عظام کا یہی موقف ہے کہ حج کے مہینوں میں حج کا احرام باندھنا حج کے لیے شرط ہے۔
(فتح الباري: 534/3) (2)
حضرت عائشہ ؓ نے حیض کا عارضہ ذکر کرنے کے بجائے ادب کے طور پر یہ فرمایا: میں نماز کے قابل نہیں رہی۔
یہ اشارہ اس قدر مقبول ہوا کہ اب بھی عورتیں حیض کے موقع پر یہی الفاظ استعمال کرتی ہیں۔
(3)
بخاری کے بعض نسخوں میں يَضُرك کے بجائے يَضِيرك ہے۔
امام بخاری ؒ نے يضيرك کے متعلق فرمایا: یہ باب یائی اور وادی دونوں طرح ہو سکتا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی تطییب خاطر کے لیے وہاں بھیج کر عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے فرمایا تھا۔
آخر حدیث میں ذکر ہے کہ جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ہی احرام باندھا تھا۔
انہوں نے بھی ایک ہی طواف کیا اور ایک ہی سعی کی۔
جمہور علماء اور اہلحدیث کا یہی قول ہے کہ قارن کے لیے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کافی ہے اورحضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے دو طواف اور دو سعی لازم رکھے ہیں اور جن روایتوں سے دلیل لی ہے، وہ سب ضعیف ہیں (وحیدی)
امام بخاری ؒ نے "طواف القارن" کے الفاظ سے عنوان قائم کیا ہے۔
اس میں انہوں نے جزم اور وثوق کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا کہ قارن کو دو طواف اور دو سعی کرنے چاہئیں یا ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، البتہ اس سلسلے میں جن احادیث کا انتخاب کیا ہے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ قارن کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی خیال کرتے ہیں، چنانچہ اس حدیث کے آخر میں صراحت ہے کہ جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔
اس سلسلے میں حضرت علی ؓ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تو ان کے لیے دو طواف اور دو سعی کیں، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، لیکن اس روایت کے تمام طرق ضعیف اور ناقابل حجت ہیں۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے، اس کی سند صحیح نہیں، نیز حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں حسن بن عمارہ راوی متروک ہے۔
(فتح الباري: 625/3)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی طواف (سعی)
کیا۔
(مسندأحمد: 317/3)
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قارن کے لیے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔
مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہیں حج اور عمرے کے لیے ایک ہی طواف کافی ہو جائے گا۔
‘‘ (مسندأحمد: 124/6)
(1)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ماہ ذوالحجہ میں حج کے بعد اگر کوئی عمرے کا احرام باندھتا ہے تو اسے قربانی دینی ہو گی۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید کی ہے کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے حج کے بعد اور ایام تشریق گزر جانے کے بعد کیا جائے اس عمرے میں کوئی چیز واجب نہیں ہوتی کیونکہ وہ متمتع نہیں۔
متمتع وہ شخص ہے جو حج کے دنوں میں عمرے کرے اور وقوف عرفہ سے پہلے طواف کرے، اسے دم تمتع دینا ہوتا ہے۔
اور جو شخص اعمال حج ادا کرنے کے بعد عمرہ کرتا ہے اس پر ہدی، صدقہ اور روزہ وغیرہ واجب نہیں۔
(عمدةالقاري: 422/7) (2)
امام ابن خزیمہ ؒ اس حدیث کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: پہلا عمرہ ترک کرنے اور اسے حج میں داخل کرنے سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی اور نہ مقام تنعیم ہی سے عمرہ کرنے میں کوئی شے واجب ہوتی ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس تاویل کو حسن قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 770/3)
(1)
ذوالحجہ کی تیرہ تاریخ کو رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے تکمیل حج کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف کوچ فرمایا تھا۔
چونکہ آپ کا پڑاؤ وادئ محصب میں تھا، اس لیے کوچ کی رات کو لیلۃ الحصبہ یا لیلۂ محصب کہا جاتا ہے۔
اس رات بعض ائمہ کرام نے عمرے کی ادائیگی کو مکروہ خیال کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ اس رات یا اس کے علاوہ دیگر اوقات میں عمرہ کرنا جائز ہے کیونکہ حج کی تکمیل ہو چکی ہے، اس لیے عمرہ کرنے پر پابندی لگانا بے بنیاد ہے۔
(2)
ابن بطال فرماتے ہیں: اس عنوان کا فقہی مسئلہ یہ ہے کہ حاجی جب اعمال حج مکمل کر لیتا ہے تو ایام تشریق کے ختم ہوتے ہی عمرہ کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث عائشہ سے واضح ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 764/3)
البتہ ایام تشریق میں عمرہ کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔
بعض حضرات کے نزدیک ان دنوں میں عمرہ کرنا درست نہیں کیونکہ ابھی اعمال حج مکمل نہیں ہوئے، نیز رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے عمرے کا وعدہ فرمایا تھا۔
اگر ایام تشریق میں عمرہ کرنا جائز ہوتا تو آپ ان ایام میں انہیں عمرہ کرنے کا حکم فرماتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ایام حج کے فورا بعد انہیں عمرہ کرنے کا حکم دیا۔
(عمدةالقاري: 416/7)
واللہ أعلم۔
(3)
ہمارے نزدیک بھی یوم عرفہ، یوم نحر اور ایام تشریق میں عمرہ کرنا حاجی کے لیے درست نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے اعمال حج کی ادائیگی متاثر ہو گی۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت خود بھی کھایا جا سکتا ہے، اسے سارے کا سارا صدقہ کرنا ضروری نہیں۔
(2)
قربانی کا گوشت کتنا خود استعمال کرنا ہے اور کتنا صدقہ کرنا ہے؟ اس کے متعلق کوئی متعین مقدار بیان نہیں ہوئی۔
بہتر ہے کہ اس کے تین حصے کر لیے جائیں: ایک حصہ خود استعمال کرے، ایک حصہ دوست احباب کو تحفے میں دے اور ایک حصہ صدقہ و خیرات کر دے، چنانچہ عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت علقمہ کو حکم دیتے تھے کہ وہ قربانی کے تین حصے کرے: ایک تہائی صدقہ و خیرات کر دے، ایک حصہ اپنے استعمال کے لیے رکھ لے اور ایک تہائی دوستوں کو بطور تحفہ بھیج دے۔
(عمدةالقاري: 33/7)
قرآن کی ایک آیت سے بھی اس قسم کا اشارہ ملتا ہے۔
(الحج: 36: 22)
اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں نحر سے ذبح مراد ہے چنانچہ اس حدیث کے دوسرے طریق میں جو آگے مذکور ہوگا ذبح کا لفظ ہے اور گائے کا نحر کرنا بھی جائز ہے مگر ذبح کرنا علماءنے بہتر سمجھا ہے اور قرآن شریف میں بھی ﴿أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ (البقرة: 67)
وارد ہے۔
(وحیدی)
حافظ ابن حجر نے متعدد روایات نقل کی ہیں جن سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنی تمام ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی فرمائی تھی، گائے میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں جیسا کہ مسلمہ ہے، حج کے موقع پر تو یہ ہر مسلمان کرسکتا ہے مگر عید الاضحی پر یہاں اپنا ہاں کے ملکی قانون (بھارتی قانون)
کی بنا پر بہتر یہی ہے کہ صرف بکرے یا دنبہ کی قربانی کی جائے اور گائے کی قربانی نہ کی جائے جس سے یہاں بہت سے مفاسد کا خطرہ ہے ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ قرآنی اصول ہے، حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: أما التعبير بالذبح مع أن حديث الباب بلفظ النحر فإشارة إلى ما ورد في بعض طرقه بلفظ الذبح وسيأتي بعد سبعة أبواب من طريق سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد ونحر البقر جائز عند العلماء إلا أن الذبح مستحب عندهم لقوله تعالى إن الله يأمركم أن تذبحوا بقرة وخالف الحسن بن صالح فاستحب نحرها وأما قوله من غير أمرهن فأخذه من استفهام عائشة عن اللحم لما دخل به عليها ولو كان ذبحه بعلمها لم تحتج إلى الاستفهام لكن ليس ذلك دافعا للاحتمال فيجوز أن يكون علمها بذلك تقدم بأن يكون استأذنهن في ذلك لكن لما أدخل اللحم عليها احتمل عندها أن يكون هو الذي وقع الاستئذان فيه وأن يكون غير ذلك فاستفهمت عنه لذلك۔
(فتح)
یعنی حدیث الباب میں لفظ نحر کو ذبح سے تعبیر کرنا حدیث کے بعض طرق کی طرف اشارہ کرنا ہے جس میں بجائے نحر کے لفظ ذبح ہی وارد ہوا ہے جیسا کہ عنقریب وہ حدیث آئے گی۔
گائے کا نحر کرنا بھی علماءکے نزدیک جائز ہے مگر مستحب ذبح کرنا ہے کیوں کہ بمطابق آیت قرآنی "بے شک اللہ تمہیں گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے" یہاں لفظ ذبح گائے کے لیے استعمال ہوا ہے، حسن بن صالح نے نحر کو مستحب قرار دیا ہے اور باب میں لفظ ''من غیر أمرهن'' حضرت عائشہ ؓ کے استفہام سے لیا گیا ہے کہ جب وہ گوشت آیا تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسا گوشت ہے اگر ان کے علم سے ذبح ہوتا تو استفہام کی حاجت نہ ہوتی، لیکن اس توجیہ سے احتمال دفع نہیں ہوتا، پس ممکن ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کو پہلے ہی اس کا علم ہو جب کہ ان سے اجازت لے کر ہی یہ قربانی ان کی طرف سے کی گئی ہوگی۔
اس وقت حضرت عائشہ ؓ کو خیال ہوا کہ یہ وہی اجازت والی قربانی کا گوشت ہے یا اس کے سوا اور کوئی ہے اسی لیے انہوں نے دریافت فرمایا، اس توجیہ سے یہ اعتراض بھی دفع ہو گیا کہ جب بغیر اجازت کے قربانی جائزنہیں جن کی طرف سے کی جارہی ہے تو یہ قربانی ازواج النبی ﷺ کی طرف سے کیوں کر جائز ہوگی۔
پس ان کی اجازت ہی سے کی گئی مگر گوشت آتے وقت انہوں نے تحقیق کے لیے دریافت کیا۔
(1)
امام بخاری ؒ کے استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس جب گائے کا گوشت لایا گیا تو انہوں نے اس کے متعلق پوچھا۔
اگر انہوں نے اجازت دی ہوتی تو پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی، البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے ازواج مطہرات سے اس کی اجازت لی ہو لیکن جب گوشت سامنے آیا تو سوال کیا کہ آیا یہ وہی گوشت ہے جس کی ہم نے اجازت دی تھی یا کوئی دوسرا ہے، البتہ یہ تاویل امام بخاری کے مقصد کے خلاف ہے اور حدیث کا سیاق بھی اسے قبول نہیں کرتا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوسرے کی طرف سے اس کی اجازت یا اس کے علم میں لائے بغیر کوئی کارخیر سرانجام دیتا ہے تو اسے ثواب پہنچتا ہے، نیز اس میں گائے وغیرہ کی قربانی میں شراکت کا ثبوت بھی ہے۔
(3)
اس حدیث کی بنا پر بعض علماء کے نزدیک گائے کو نحر کرنا بھی جائز ہے لیکن ذبح کرنا مستحب ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ ’’بےشک اللہ تعالیٰ تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔
‘‘ (البقرة: 67: 2، و فتح الباري: 695/3)
(1)
اس روایت سے بھی حج کی تینوں اقسام افراد، قِران اور تمتع کا ثبوت ملتا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ دور جاہلیت میں عربوں کے اعتقاد کے مطابق حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا دنیا کا بدترین گناہ تھا، چنانچہ بیشتر صحابہ کرام ؓ نے صرف حج کا احرام باندھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس فاسد عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: یہ عقیدہ اسلام کے مطابق نہیں، اس لیے تم میں سے جو چاہے وہ عمرے کا احرام باندھ لے اور جو شخص چاہے وہ حج کا احرام باندھ لے۔
اس ہدایت نبوی کے پیش نظر صحابہ کرام ؓ نے حسب استطاعت عمرہ یا حج یا دونوں کا احرام باندھا جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے۔
بہرحال اس حدیث میں احرام کی تینوں قسميں ذکر ہوئی ہیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصد بھی اسی بات کو ثابت کرنا ہے۔
واللہ أعلم
۔
(لَوْ أَنِّيْ اِسْتَقْبَلْتُ)
کا مقصد یہ ہے کہ اگر مجھے مدینہ سے چلتے وقت اس بات کا علم ہو جاتا کہ حج کا احرام فسخ کر کے عمرہ کرنا پڑے گا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا (کیونکہ ہدی ساتھ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قران ضروری تھا)
اور تمھاری طرح عمرہ کر کے احرام کھول دیتا اور پھر آٹھ ذوالحجہ کو نئے سرے سے حج کا احرام باندھتا اور حج تمتع کی بنا پر قربانی یہیں مکہ سے خرید لیتا، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو اس بنا پر احرام کھولنے میں تردد پیدا ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود احرام باندھے ہوئے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کرنا چاہتے تھے اور بعض حضرات نے اس کا یہ معنی لیا ہے کہ اگر آغاز ہی میں مجھے تمھارے اس تردو اور اضطراب کا پتہ چل جاتا تو میں بھی قربانی ساتھ نہ لاتا اور تمھاری طرح عمرہ کر کے احرام کھول دیتا لیکن چونکہ مجھے تمھارے تردو اور اضطراب کا پہلے علم نہیں ہو سکا، اس لیے میں قربانی ساتھ لایا ہوں اس لیے میں عمرہ کر کے حلال نہیں ہو سکتا تمھارے پاس ہدی نہیں ہے، اس لیے تم حلال ہو جاؤ۔
حج کب فرض ہوا اس کے بارے میں اختلاف ہے۔
مشہور قول دو ہیں سن 6 ہجری اور سن 9 ہجری صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ سن 8 ہجری میں فتح مکہ کے بعد، جب مکہ معظمہ پر مسلمانوں کا اقتدار قائم ہو گیا تو سن 9 ہجری میں حج فرض ہوا، لیکن اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج نہیں کیا بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیرحج بنا کر بھیجا اور اس حج میں چند اہم اعلانات کروائے گئے تاکہ جب آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود حج فرمائیں تو اس میں جاہلیت کے گندے اور مشرکانہ طور طریقوں کی آمیزش نہ ہو اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کرنے کے صحیح طور طریقے سیکھ لیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی خصوصی اہتمام سے تشہیر کروائی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس مبارک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر مناسک حج اور دین کے دوسرے مسائل اوراحکام سیکھ سکیں۔
اس لیے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی خاطر جوق درجوق اس حج میں شرکت کے لیے آئے اورراستہ میں بھی رفقائے سفر میں اضافہ ہوتا رہا۔
2۔
حج کی اقسام: حج کی تین قسمیں ہیں۔
1۔
حج افراد۔
جس کے لیے میقات سے جانے والا اپنے مقررہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھتا ہے اورحج سے فراغت تک محرم ہی رہتا ہے۔
2۔
حج تمتع۔
حج کے لیے جانے والا اپنے میقات سے صرف عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور یہ احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے گا۔
پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرتاہے اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے پھر تحلیق یا تقصیر کے بعد احرام کھول دیتا ہے اور آٹھ ذوالحجہ کو نئے سرے سے حج کے لیے احرام باندھتا ہے اور حج کے تمام افعال نئے سرے سے ادا کرتا ہے۔
یعنی دس(10)
ذوالحجہ کو منیٰ سے آ کر طواف افاضہ کے بعد صفا اومروہ کے درمیان سعی کرتا ہے اورحج سے فارغ ہو جاتا ہے طواف افاضہ سے پہلے، رمی۔
قربانی اور تحلیق یا تقصیر کر لیتا ہے۔
3۔
حج قِران۔
جس کے لیے حاجی میقات سے عمرہ اور حج دونوں کے لیے احرام باندھتا ہے اورعمرہ کرنے کے بعد احرام نہیں کھولتا بلکہ حج سے فراغت کے بعد حلال ہوتا ہے۔
یعنی طواف افاضہ سے پہلے احرام کھولتا ہے جبکہ وہ قربانی کرنے کے بعد تحلیق یا تقصیر کر لیتا ہے۔
3۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہفتہ کے دن 25 ذوالحجہ سن 10 ہجری کو نماز ظہر کے بعد مدینہ منورہ سے نکلے ہیں اور رات ذوالحلیفہ میں گزاری ہے اگلے دن اتوار کو نماز ظہر کے بعد مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھا ہے چونکہ عربوں کا دستور یہ چلا آ رہا تھا کہ وہ جب حج کے لیے نکلتے تو صرف حج کا احرام باندھتے تھے حج کے ساتھ عمرہ نہیں کرتے تھے اس لیے مدینہ منورہ سے نکلتے وقت سب کا ارادہ صرف حج ہی کا تھا۔
لیکن جب وادی عقیق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحج کے ساتھ عمرہ کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عمرہ کا تلبیہ کہنے کا مشورہ دیا۔
اس لیے بعض لوگوں نے یہاں سے صرف عمرہ کا تلبیہ کہنا شروع کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چونکہ ہدی (قربانی کاجانور)
تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی ملا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قارن بن گئے، ازواج مطہرات نے بھی عمرہ کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا اور حج کو فسخ کر ڈالا لیکن کچھ لوگ صرف حج کے احرام پر قائم رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ اور صفا اورمروہ کے طواف سے فراغت کے بعد ان تمام لوگوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا جن کے پاس قربانی نہیں تھی، اس طرح یہ سب لوگ متمتع ہو گئے، اگرچہ جب مدینہ سے چلے تھے تو سب کا ارادہ حج افراد کا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے یہ عذر پیش فرمایا چونکہ میرے پاس ہدی ہے اس لیے میں احرام کھول کر متمتع نہیں بن سکتا۔
اگرمیرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح عمرہ کرنے کے بعد احرام کھو ل دیتا۔
4۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی دوسری ازواج مطہرات کی طرح پہلے عمرہ کرنے کی نیت کر لی تھی لیکن چونکہ وہ طواف بیت اللہ سے پہلے حائضہ ہو گئیں تھیں اس لیے وہ پہلے عمرہ نہ کر سکیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حج قرآن کرنے کا حکم دیا کیونکہ اس میں عمرہ کے افعال حج کے افعال میں داخل ہو جاتے ہیں اس لیے جن لوگوں نے حج قران کیا تھا انہوں نے صفا اورمروہ کےدرمیان سعی صرف ایک دفعہ کی جبکہ حج تمتع کرنے والوں نے طواف افاضہ کرنے کے بعد دوبارہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔
5۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے چونکہ حج تمتع کا ارادہ کرلیا تھا جس میں عمرہ اورحج الگ الگ ہوتے ہیں لیکن وہ حیض کے عذر کی بنا پر الگ عمرہ نہ کرسکیں جبکہ باقی ازواج مطہرات نے الگ عمرہ کرلیا تھا اس لیے ان کی خواہش تھی کہ میں بھی الگ عمرہ کروں حالانکہ حج قران کے ساتھ ان کا عمرہ ہو چکا تھا۔
ان کی خواہش کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے فراغت کے بعد انہیں عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مقام تنعیم سے جو حل میں واقع ہے دوبارہ عمرہ کروایا۔
6۔
حج کی تینوں قسموں کے جواز میں ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
کے نزدیک حج افراد افضل ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حج تمتع اورحج قرآن دونوں حج افراد سے افضل ہیں۔
اما ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حج قران افضل ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حج تمتع افضل ہے۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک متمتع سے وہ قارن افضل ہے جو قربانی ساتھ لاتا ہے اگرقربانی ساتھ نہیں لاتا تو متمتع افضل ہے۔
7۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اورمحدثین کے نزدیک قارن کے لیے ایک طواف اور ایک سعی فرض ہے اور متمتع کے لیے دو طواف اور دوسعی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قارن کے لیے بھی دو طواف اوردو سعی لازم ہیں۔
لیکن یہ مؤقف صحیح حدیث کے خلاف ضعیف احادیث کی بنیاد پر ہے جیسا کہ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے زادالمعاد میں تفصیل سے بیان کیا ہے (زادالمعادج 2ص: 136تا 140)
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور بعض دوسرے حضرات کا ایک قول یہ ہے کہ متمتع بھی ایک سعی پر کفایت کر سکتا ہے۔
اگرچہ افضل دو سعی ہیں۔
‘‘ اور آخر کار تمام وہ لوگ جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی۔
وہ متمتع بن گئے تھے خواہ پہلے انھوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا یا صرف حج کا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد ۱؎ کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 820]
" 1؎ حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قِران اورتمتع، حج افرادیہ ہے کہ حج کے مہینوں میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھے، اور حج قِران یہ ہے کہ حج اورعمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے، اورقربانی کا جانورساتھ، جب کہ حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمرے کی نیت کرے پھرمکہ میں جاکرعمرہ کی ادائیگی کے بعداحرام کھول دے اورپھرآٹھویں تاریخ کومکہ مکرمہ ہی سے نئے سرے سے احرام باندھے۔
اب رہی یہ بات کہ آپ ﷺ نے کون سا حج کیا تھا؟توصحیح بات یہ ہے کہ آپ نے قِران کیاتھا، تفصیل کے لیے حدیث رقم 822 کا حاشہ دیکھیں۔
نوٹ:
(نبی اکرمﷺ کا حج، حج قران تھا، اس لیے صحت سند کے باوجود متن شاذ ہے)
"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا "، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: " اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے "، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1784]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: " عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ "، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے (امسال) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے "، پھر فرمایا: " تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ " پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو "، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1782]
➋ جوشخص مکہ میں ہوتے ہوئے عمرہ کرنا چاہے اسے قریب ترین میقات پر جاکر احرام باندھ کر آنا لازم ہے۔سیدہ عائشہ ؓ کو تو ایک طبعی عارضہ لاحق ہوگیا جس کی وجہ سے ان کا عمرہ رہ گیاتھا جس کا ان کو قلق تھا اس کا ازالہ ان کو تنعیم سے احرام بندھوا کر کرا دیا گیا یوں ان عمرہ بھی ہو گیا۔یہ خصوصی رعایت صرف حضرت عائشہ ؓ کے لیے تھی جس سے وہ عورتیں تو فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو حضرت عائشہ ؓ کی طرح وہاں جاکرحائضہ ہو جائیں۔لیکن عام لوگ جو مزید عمرہ کرنا چاہیں وہ تنعیم (مسجد عائشہ)جاکر وہاں سے احرام باندھ کر آ کر عمرہ نہیں کر سکتے (جیسا کہ اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں۔) البتہ وہ ذوالحلیفہ قرن المنازل یا کسی بھی میقات سے احرام باندھ کرآئیں تو دوبارہ عمرہ کرنا صحیح ہو گا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے "، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: " اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو "، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بھائی) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا (تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے "، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1781]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے۔" موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔" اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: " رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے۔" آگے دونوں راوی متفق ہیں (ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: " کیوں رو رہی ہو؟ "، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی (تو بہتر ہوتا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو۔" موسیٰ کی روایت میں ہے: " اور حج کا احرام باندھ لو "، اور سلیمان کی روایت میں ہے: " اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں۔" تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر گئے۔ موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمرے کے عوض (جو ان سے چھوٹ گیا تھا) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔ ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: موسیٰ نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء ۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1778]
➋ ایسی صورت میں عورت کو عمرے کی نیت کو حج میں بدل لینا چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1777]
➋ اس معنی کی احادیث میں نبی ﷺ کے ابتدائے عمل کا بیان ہے۔ قران کی نیت آپ نے بعد میں فرمائی تھی۔کچھ محدثین اس طرح کہتے ہیں کہ آپ شروع ہی سے قارن تھے۔مگر چونکہ «قارن» کو اجازت ہوتی ہے کہ کسی وقت «لبیک بحجة» کسی وقت «لبیک تعمرۃ» اور کسی وقت «لبیک بحجة و عمرة» کہے اس لیے صحابہ کرام نے نبیﷺ کی زبان سے جو سنا بیان کیا۔ اس میں تعارض والی کوئی بات نہیں۔(مرعاۃ المفاتیح –شرح حدیث:2569]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے "، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2765]
(2) "اپنا سر کھول لو…" ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے عمرے کا احرام چھوڑ کر صرف حج کا احرام باندھا تھا اور انھوں نے صرف حج کیا تھا جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ لیکن درست بات یہی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے حج اور عمرہ دونوں کیے تھے جیسا کہ گزشتہ روایت میں اس کی تفصیل ہے۔ "عمرہ چھوڑ دے۔" سے مراد یہ ہے کہ عمرے کے افعال واعمال چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے کیونکہ عمرے کے اعمال حج کے اعمال میں داخل ہوگئے ہیں۔ اور نبیﷺ کا یہ فرمانا: "تو اپنے حج اور عمرے دونوں سے حلال ہوگئی۔" اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عائشہؓ کا حج اور عمرہ دونوں ہو گئے تھے اور تنعیم والا عمرہ محض حضرت عائشہؓ کے اطمینان قلب کے لیے تھا۔ واللہ أعلم
(3) "سر کے بال کھول لو اور کنگھی کرو" احرام میں کنگھی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ احناف ناجائز کہتے ہیں۔ بعض نے عذر کی بنا پر جائز کہا ہے جبکہ جمہور مطلق جائز سمجھتے ہیں۔ راجح بات جمہور اہل علم کی ہے کیونکہ کنگھی نہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں، لہٰذا احناف کا ان الفاظ سے عمرہ ختم کرنے کا استدلال درست نہیں۔ واللہ أعلم
(4) "صرف ایک طواف کیا" ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے منیٰ سے واپس آکر طواف نہیں کیا، حالانکہ یہ حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ طواف تو فرض ہے۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ (دیکھیے حدیث: 2747، فائدہ: 3)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2716]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا " جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2993]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2994]
(2) "حج مکمل کرے۔" یہ اس وقت ہے جب وہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا، ایسے اشخاص کو آپ نے عمرہ کر کے حلال ہونے کا حکم دیا، خواہ ان کا احرام حج ہی کا تھا۔ بہرحال اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر قربانی کا جانور ساتھ ہو تو جانور کے ذبح ہونے سے پہلے حلال نہیں ہو سکتا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2651]
(2) "حج کی نیت رکھتے تھے۔" اکثر صحابہ کی نیت یہی تھی مگر بعض صحابہ حتیٰ کہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی عمرے کا احرام باندھے ہوئے تھیں۔
(3) "احرام ختم کر دیں۔" یعنی عمرہ کر کے حلال ہو جائیں، خواہ احرام حج ہی کا ہو۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا اب بھی ایسے جائز ہے کہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل دیں؟ بظاہر یہ اب بھی جائز ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے اخذ ہوتا ہے۔ اس موقف کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس موقع پر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ آیا یہ اس سال کے ساتھ ہی خاص ہے یا یہ اجازت ہمیشہ کے لیے ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اسے قیامت تک کے لیے جائز قرار دیتے ہوئے فرمایا: [دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِی الْحَجِ ّ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ، لَا بَلْ لِأَبَدٍ اَبَدٍ، لَابَلْ لِأَبَدٍ اَبَدٍ] "تا قیامت عمرہ حج میں داخل ہوگیا، نہیں بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، نہیں بلکہ یہ اجازت ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے۔" مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (حجة النبي للألباني، ص: 15) لیکن جمہور اہل علم اب اس کے جواز کے قائل نہیں۔ ان کے بقول یہ حکم صرف اس سال کے لیے تھا کیونکہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنے کی اجازت تازہ تازہ ملی تھی۔ پہلے لوگ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا گناہ سمجھتے تھے، اس لیے وضاحت کے لیے آپ نے یہ حکم دیا۔ لیکن صریح حدیث کی روشنی میں یہ توجیہ محل نظر ہے۔
(4) "جب بیت اللہ کا طواف کر چکیں۔" یعنی مکمل عمرہ کر لیں۔ طواف کے بعد سعی بھی کر چکیں۔ یہ مسئلہ متفقہ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2718]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2719]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے تین صورتوں میں نکلے، ہم میں تین قسم کے لوگ تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور کچھ لوگوں نے حج افراد کا، اور کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا، جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا تھا (یعنی قران کیا تھا) وہ حج کے سارے مناسک پورے کر لینے کے بعد حلال ہوئے، اور جس نے حج افراد کا تلبیہ پکارا تھا اس کا بھی یہی حال رہا، وہ بھی اس وقت تک حلال نہیں ہوا جب تک حج کے سارے مناسک پورے نہ کر لیے، اور جس نے صرف عمرہ کا تل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3075]
فوائد و مسائل:
(1)
حج کی ان تین صورتوں میں سے پہلی صورت کو حج قران دوسری صورت کو حض افراد اور تیسری صورت کو حج تمتع کہتےہیں۔
(2)
حالات کے مطابق جس طریقے سے بھی حج کیا جائے درست ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2964]
فوائد و مسائل:
(1)
حج کی تین قسمیں ہیں ان میں سے جس طریقے سے بھی حج ادا کیا جائے درست ہے۔
(ا)
حج افراد: اس میں حج کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے۔
مکہ شریف پہنچ کر جو طواف کرتے ہیں وہ طواف قدوم کہلاتا ہے پھر احرام کھولے بغیر مکہ میں رہتے ہیں۔
یوم الترویہ (8 ذی الحجہ)
کو اسی احرام کے ساتھ منی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
وہاں ظہر سے لیکر اگلے دن (9 ذوالحجہ)
کی فجر تک پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں۔
سورج نکلنے کے بعد عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔
وہاں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کرکے ادا کرتے ہیں پھر سورج غروب ہونے تک ذکر الہی اور دعا ومناجات میں مشغول رہتے ہیں۔
یہ وقوف (عرفات میں ٹھرنا)
حج کا سب سے اہم رکن ہے۔
سورج غروب ہونے پر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں وہاں پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع اور قصر کرکے ادا کرتے ہیں۔
رات مزدلفہ میں گزار کر صبح (دس ذوالحجہ کو)
فجر کی نماز ادا کرکے وہاں ٹھرے رہتے ہیں۔
کافی روشنی ہوجانے پر سورج نکلنے سے پہلے منی کی طرف چلتے ہیں۔
منی پہنچ کر سورج نکلنے کے بعد بڑے جمرے کو سات کنکریاں مارتے ہیں قربانی کرتے ہیں اور سر کے بال اتروا کر احرام کھول دیتے ہیں اور اسی دن سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے طواف کعبہ کرتے اور رات منی میں واپس آ کر گزارتے ہیں۔
گیارہ بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کو منی میں ٹھرتے ہیں۔
ان تین دنوں میں روزانہ زوال کے بعد تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔
اگر کوئی شخص گیارہ اور بارہ تاریخ کو کنکریاں مار کر واپس آنا چاہے تو آ سکتا ہے۔
حج افراد میں قربانی کرنا ضروری نہیں ثواب کا باعث ہے۔
(ب)
حج قران کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھتے ہیں۔
مکہ پہنچ کر طواف اور سعی کرتے ہیں۔
یہ عمرہ بن جاتا ہے لیکن اس کے بعد بال اتروا کر احرام نہیں کھولتے بلکہ احرام میں ہی رہتے ہیں۔
اس طرح آٹھ ذوالحجہ کو منی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں اور وہ تمام کام کرتےہیں جو حض افراد میں بیان ہوئے۔
حج قران کرنے والے میقات سے یا وطن سے قربانی کے جانور ساتھ لیکرآتے ہیں۔
(ج)
حج تمتع کا طریقہ یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرے کا احرام باندھتے ہیں مکہ شریف پہنچ کر طواف اور سعی کرکے بال چھوٹے کرا کے احرام کھول دیتے ہیں پھر آٹھ ذوالحجہ کو مکہ ہی سے احرام باندھ کر حج کےتمام ارکان ادا کرتےہیں۔
اور دس ذی الحجہ کو قربانی دیتے ہیں۔
جو قربانی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ دس روزے رکھ لے جن میں سے تین روزے ایام حج میں رکھنا ضروری ہیں۔
(2)
مدینہ منورہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اللہﷺ کا ارادہ حج مفرد کا تھا۔
بعد میں رسول اللہﷺ نے ارادہ بدل دیا۔
ام المومنین رضی اللہ عنہ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی (قربانی) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی (قربانی) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن (ذی الحجہ کا دسواں دن) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2981]
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث: 3135 میں صراحت ہے کہ اس موقع پر امہات المومنین کی طرف سے مشترکہ طور پر ایک گائے کی قربانی دی گئی تھی۔
(2)
ایک گھر والوں کی طرف سے ایک گائے یا اونٹ کی قربانی کافی ہے اگرچہ ان کی تعداد سات سے زیادہ ہو۔
«. . . عن عائشة انها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى حجة الوداع فاهللنا بعمرة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من كان معه هدي فليهلل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا . . .»
". . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کرنے کے لئے) نکلے۔ ہم نے عمرہ کی لبیک کہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کے پاس قربانی کے جانور ہوں تو وہ عمرے کے ساتھ حج کی لبیک کہے پھر جب تک ان دونوں (حج و عمرہ) سے فارغ نہ ہو جائے احرام نہ کھولے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 293]
[وأخرجه البخاري 1556، ومسلم 1211/111، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حج کی تینوں قسموں افراد، قران اور تمتع پر عمل کرنا بالکل صحیح ہے۔ ديكهئے: [التمهيد 205/8]
● صحیح مسلم (1252) کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حج افراد قیامت تک جاری رہے گا۔ نیز دیکھئے: [السنن الكبري للبيهقي 2/5]
◄ لہٰذا حج افراد کو منسوخ کہنا باطل ہے۔
تنبیہ:
صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حج کی تینوں اقسام میں سے راجح قول کے مطابق حج تمتع سب سے افضل ہے۔
➋ حج قران اور حج افراد میں صرف ایک طواف (بیت اللہ کے سات پھیروں والا طواف) ہے جبکہ حج تمتع کرنے والے کو قربانی کے ساتھ دو طواف کرنے پڑتے ہیں۔ جتنا عمل مسنون زیادہ ہے اتنا ثواب زیادہ ہے۔
➌ حالت حیض میں طواف اور سعی جائز نہیں ہے۔
➍ اس پر اجماع ہے کہ عمرہ کرنے والا پہلے بیت اللہ کا طواف کرے گا اور پھر صفا و مروہ کی سعی کرے گا۔ دیکھئے: [التمهيد216/8] سوائے اس کے کہ وہ عرفات کی رات مکہ پہنچ جائے تو اس صورت میں پہلے عرفات جائے گا تاکہ حج (کا رکن اعظم) رہ نہ جائے۔
➎ حائضہ عورت جس پر عمرہ واجب ہے۔ تنعیم جا کر عمرہ کر سکتی ہے۔
➏ تنعیم مکہ مکرمہ کا ایک مقام ہے جسے آج کل مسجد عائشہ کہا جاتا ہے۔ بعض الناس یہاں سے نفلی عمرے کرتے رہتے ہیں جن کا کوئی ثبوت احادیث صحیحہ اور آثار سلف صالحین سے نہیں ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ حديث: 39]
«. . . عن عائشة ام المؤمنين: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج . . .»
". . . ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا تھا . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 298]
[وأخرجه البخاري 1562، ومسلم 118/1211، وابن ماجه 2965، من حديث مالك به]
تفقه
➊ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس صحیح حدیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کی لبیک کہی تھی۔ [صحيح مسلم: 1231]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کی لبیک کہی تھی۔ [صحيح مسلم 1213]
دوسری طرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کی لبیک کہی تھی۔ [صحيح بخاري: 4353، 4354 وصحيح مسلم: 1232]
اس طرح کی روایات دیگر صحابہ سے بھی ہیں اور یہ متواتر ہے۔ ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حج افراد کی لبیک کہی اور بعد میں حج قران (عمرے اور حج) کی لبیک کہی۔ ہر صحابی نے اپنے اپنے علم کے مطابق روایت بیان کر دی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: شرح الزرقانی علی موطأ الامام مالک [ج2 ص251]
➋ حج افراد، حج قران اور حج تمتع یہ تینوں قسمیں حج کی ہیں اور قیامت تک ان میں سے ہر قسم پر عمل جائز ہے۔ بعض علماء کا حج افراد کی حدیث کو شاذ یا منسوخ قرار دینا باطل و مردود ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابن مریم روحاء کی گھاٹی سے حج (افراد) یا عمرہ کرنے (والے حج تمتع) یا دونوں اکٹھے (حج قران) کی لبیک کہتے ہوئے ضرور آئیں گے۔" [صحيح مسلم: 1252، وترقيم دارالسلام: 3030، السنن الكبريٰ للبيهقي 5/2 حاجي كے شب وروز ص82]
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ حج افراد، حج قران اور حج تمتع قیامت تک باقی رہیں گے۔
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جس نے حج افراد کیا تو اچھا ہے اور جس نے تمتع کیا تو اس نے قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (دونوں) پر عمل کیا۔" [السنن الكبريٰ للبيهقي 5/21 وسنده صحيح، حاجي كے شب وروز ص83]
سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم نے حج افراد کیا۔ [سنن الترمذي: 82٠ وسنده حسن]
تنبیہ:
دوسرے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حج تمتع سب سے افضل ہے۔
«. . . 497- وبه: أنها سمعت عائشة تقول: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس ليال بقين من ذي القعدة ولا نرى إلا أنه الحج فلما دنونا من مكة أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدي إذا طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة أن يحل. قالت: عائشة: فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه. قال يحيى: فذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال: أتتك بالحديث على وجهه. . . .»
". . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینے سے) نکلے تو ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا پھر جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی کے جانور نہیں ہیں، اگر اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ہے تو احرام کھول دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر قربانی والے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے یحییٰ (بن سعید الانصاری) نے کہا: پھر میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: عمرہ نے تمہیں یہ حدیث بالکل اصل کے مطابق سنائی ہے۔ . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 308]
[وأخرجه البخاري 1709، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ جس شخص کے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوں اور وہ حج کے مہینوں میں حج کی نیت سے مکہ پہنچ جائے تو اگر چاہے کہ عمرہ کر کے احرام کھول دے اور بعد میں حج تمتع کرے تو ایسا کر سکتا ہے۔
➋ گائے کا گوشت حلال ہے اور کسی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ گائے کا گوشت مضر ہے۔ اس سلسلے میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے جن روایات کو صحیح قرار دیا ہے وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔
➌ نیز دیکھئے: الموطأ حدیث: 38
عقری کا لفظی ترجمہ بانجھ اور حلقی کا سرمنڈی، آپ ﷺ نے از راہ محبت یہ لفظ استعمال فرمائے جیسا کہہ دیا کرتے ہیں سرمنڈی، یہ بول چال کا عام محاورہ ہے۔
یہ حدیث بھی بہت سے فوائد پر مشتمل ہے، خاص طور پر صنف نازک کے لیے پیغمبر ﷺ کے قلب مبارک میں کس قدر رافت اور رحمت تھی کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی ذرا سی دل شکنی بھی گوار نہیں فرمائی بلکہ ان کی دل جوئی کے لیے ان کو تنعیم جاکر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم فرمایا اور ان کے بھائی عبدالرحمن ؓ کو ساتھ کر دیا، جس سے ظاہر ہے کہ صنف نازک کو تنہا چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔
بلکہ ان کے ساتھ بہرحال کوئی ذمہ دار نگران ہونا ضروری ہے۔
ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کے حائضہ ہوجانے کی خبر سن کر آپ ﷺ نے ازراہ محبت ان کے لیے عقری حلقی کے الفاظ استعمال فرمائے اس سے بھی صنف نازک کے لیے آپ ﷺ کی شفقت ٹپکتی ہے، نیز یہ بھی کہ مفتی حضرات کو اسوہ حسنہ کی پیروی ضروری ہے کہ حدود شرعیہ میں ہر ممکن نرمی اختیار کرنا اسوہ نبوت ہے۔
(1)
اِدلاج اگر دال پر تشدید ہو تو اس کے معنی رات کے آخری حصے میں سفر کرنا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ وادئ محصب میں جہاں رات بسر کی ہو وہاں سے سحری کے وقت روانگی ہو جائے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے یہاں دو روایات ذکر کی ہیں۔
چونکہ دونوں ایک ہی قصے پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کی عنوان سے مطابقت واضح ہے کیونکہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے کہ ہم آپ کو رات کے آخری حصے میں ملے۔
اگرچہ پہلی روایت میں صراحت نہیں، تاہم واقعہ ایک ہونے کی وجہ سے پہلی روایت بھی عنوان کے مطابق ہی خیال کی جائے گی۔
(عمدةالقاري: 397/7) (3)
رسول اللہ ﷺ نے ازراہ محبت حضرت صفیہ ؓ کے لیے یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ عقریٰ، حلقیٰ، بانجھ، سرمنڈی۔
ان الفاظ سے رحمت و شفقت ٹپکتی ہے جیسا کہ ایسے موقع پر حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا تھا: ’’حیض ایک معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دیا ہے۔
‘‘ ان الفاظ سے بددعا دینا مراد نہیں اور نہ اظہار خفگی مقصود ہے۔
(فتح الباري: 744/3) (4)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی تالیف قلبی کے لیے فرمایا: ’’اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کے ہمراہ جا کر مقام تنعیم سے عمرے کا احرام باندھ لو اور عمرہ کر لو‘‘ کیونکہ انہوں نے دوسری امہات المومنین ؓ کی طرح مستقل عمرہ کرنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا۔
چونکہ عورتوں کے لیے تنہا سفر کرنا مناسب نہیں، اس لیے ان کے بھائی کو ساتھ روانہ فرمایا۔
طواف افاضہ جس کو طواف زیارت اور طواف رکن بھی کہا جاتا ہے، اس سے مراد وہ طواف جو دس ذوالحجہ کو رمی جمار، قربانی اور تحلیق یا تقصیر کرنے کے بعد منی سے مکہ مکرمہ آ کر کیا جاتا ہے۔
2۔
جن لوگوں کے پاس ہدی نہیں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کر کے، اس کو عمرہ بنا لیں، اب اس میں اختلاف ہے کہ کیا حج کے لیے احرام باندھنے والا مکہ پہنچ کر، اپنے حج کو عمرہ میں بدل سکتا ہے، یا نہیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حج کا احرام باندھ کر اسے فسخ کر کے عمرہ بنا لینا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ خاص تھا اور اب اس کی اجازت نہیں ہے لیکن امام احمد رحمۃ اللہ علیہ، امام داؤد رحمۃ اللہ علیہ، حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ وابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کے نزدیک جو انسان ہدی ساتھ لے کر نہیں گیا، اسے حج کو عمرہ سے تبدیل کرنا ہو گا۔
3۔
اگر انسان مکہ مکرمہ پہنچ کروہاں سے عمرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ جمہور علماء کے نزدیک حرم سے باہر جا کر حل سے احرام باندھے گا اگر حرم کے اندر سے ہی احرام باندھ کر عمرہ کرے گا تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور قول کے مطابق اس کا عمرہ صحیح ہو گا لیکن ترک میقات کی وجہ سے دم (قربانی)
لازم آئے گا دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا یہ عمرہ صحیح نہیں ہے وہ حرم سے باہر جا کر نئے سرے سے احرام باندھے اور عمرہ کرے جمہور کے نزدیک عمرہ صحیح ہے۔
لیکن چونکہ خارج حرم نہیں گیا اس طرح حل اور حرم جمع نہیں ہوئے اس لیے دم (خون)
لازم ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تنعیم سے عمرہ کرنا لازم ہے اس کے بغیر عمر ہ نہیں ہو گا باقی آئمہ کے نزدیک حل کے کسی مقام سے بھی عمرہ کر سکتا ہے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں عمرہ اس صورت میں ہے جب انسان باہر سے مکہ میں داخل ہو، مکہ سے باہر نکل کر عمرہ کرنا سوائے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے(اس حج والے عمرہ کے)
کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں بے شمار لوگ تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے بھی حج سے فراغت کے بعد عمرہ نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سال میں ایک ہی عمرہ کیا، ایک سال میں دو عمرے نہیں کیے اس لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سال میں ایک ہی عمرہ کرنا چاہیے۔
لیکن جمہور کے نزدیک زیادہ عمرے بھی ہو سکتے ہیں لیکن آج کل جو رواج پڑ گیا ہے کہ روزانہ حرم سے باہر تنعیم میں آتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں اور اس کے لیے چند بال کاٹ لیتے ہیں اس کا تو کوئی ثبوت نہیں ہے۔
«. . . قَالَ: لَعَلَّكِ نُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي . . .»
". . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ: 305]
سید المحدثین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ حائضہ اور جنبی کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کی اجازت ہے۔ جیسا کہ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اعلم ان البخاري عقد بابا فى صحيحه يدل على انه قائل بجواز قراءة القرآن للجنب والحائض .» [تحفة الاحوذي، جلد1، ص: 124]
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جس میں جنبی اور حائضہ کو قرات سے روکا گیا ہو گو اس سلسلے میں متعدد روایات ہیں اور بعض کی متعدد محدثین نے تصحیح کی ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ کوئی صحیح روایت اس سلسلہ میں نہیں ہے جیسا کہ صاحب ایضاح البخاری نے جزء11، ص: 94 پر تحریر فرمایا ہے۔ درجہ حسن تک کی روایات تو موجود ہیں، البتہ ان تمام روایات کا قدر مشترک یہی ہے کہ جنبی کو قرات قرآن کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن چونکہ امام بخاری رحمہ اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں کوئی روایت درجہ صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے جنبی اور حائضہ کے لیے قرات قرآن کو جائز رکھا ہے۔ ائمہ فقہاء میں سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے دو روایتیں ہیں۔ ایک میں جنبی اور حائضہ ہر دو کو قرات کی اجازت ہے اور طبری، ابن منذر اور بعض حضرات سے بھی یہ اجازت منقول ہے۔
مولانا مبارک پوری قدس سرہ فرماتے ہیں: «تمسك البخاري ومن قال بالجواز غيره كالطبري و ابن المنذر وداود بعموم حديث كان يذكر الله على كل احيانه لان الذكر اعم ان يكون بالقرآن اوبغيره الخ» [تحفة الاحوذي، ج1، ص: 124]
یعنی امام بخاری رحمہ اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے علاوہ دیگر مجوزین نے حدیث «يذكرالله على كل احيانه» (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے) سے استدلال کیا ہے۔ اس لیے کہ ذکر میں تلاوت قرآن بھی داخل ہے۔ مگر جمہور کا مذہب مختار یہی ہے کہ جنبی اور حائضہ کو قرات قرآن جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے تحفۃ الاحوذی کا مقام مذکورہ مطالعہ کیا جائے۔
صاحب ایضاح البخاری فرماتے ہیں کہ "درحقیقت ان اختلافات کا بنیادی منشاء اسلام کا وہ توسع ہے جس کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں بھی فرمایا تھا اور ایسے ہی اختلافات کے متعلق آپ نے خوش ہو کر پیشین گوئی کی تھی کہ میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہو گا۔ [ايضاح البخاري، ج2، ص: 32]
(امت کا اختلاف باعث رحمت ہونے کی حدیث صحیح نہیں)۔
«. . . قَالَ: لَعَلَّكِ نُفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي . . .»
". . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تمہیں حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقرر کر دی ہے۔ اس لیے تم جب تک پاک نہ ہو جاؤ طواف بیت اللہ کے علاوہ حاجیوں کی طرح تمام کام انجام دو . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ: 305]
باب اور حدیث میں مناسبت:
باب دلالت کرتا ہے کہ حائضہ عورت حالت حج میں تمام ارکان کو پورا کرے سوائے نماز اور طواف کے، امام بخاری رحمہ اللہ کی یہ مراد بھی سمجھ میں آتی ہے کہ حائضہ قرآن کی تلاوت کر سکتی ہے، حدیث میں امام بخاری رحمہ اللہ نے دلیل کے طور پر ہرقل کی دلیل پیش کی جس میں آپ علیہ السلام نے قرآن مجید کی آیت لکھ کر ان کو بھیجی لازماً ہرقل کے بادشاہ نے اسے پڑھا اور وہ کفر کی حالت اور ناپاکی کی حالت میں تھا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ ثابت کیا کہ کفر اور شرک کی نجاست کے باوجود اسے قرآن کی آیت لکھ کر بھیجیں اس کے برعکس مومنہ حالت حیض میں اگرچہ ظاہری ناپاکی میں ہے مگر کفر اور شرک کی ناپاکی سے بطریق اولیٰ کم ہے کیوں کہ وہاں ناپاکی ایمان نہ ہونے کہ وجہ سے ہے اور یہ ناپاکی عورت کی جسمانی ناپاکی ہو گی تو لہٰذا اس حالت میں بطریق اولیٰ قرآن پڑھنا درست ہو گا۔
◈ علامہ ابن المنیر رحمہ اللہ نے اس حدیث سے جنبی کی تلاوت کا بھی استدلال کیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ حیض حدث اکبر ہے جنابت سے، لہٰذا جب حیض کی حالت میں قرآن پڑھنا درست ٹھہرا تو کیوں کر حالت جنابت جو کہ حدث اصغر ہے اس میں قرآن پڑھنا درست نہ ٹھہرا؟ ديكهئے: [المتواريص 83]
ان تمام احادیث اور آثار کو جو امام بخاری رحمہ اللہ نے پیش فرمایا ہے یہی مقصود ہے کہ جنبی اور حالت حیض والی عورت قرآن مجید پڑھ سکتی ہے ان کو پڑھنے میں کوئی چیز مانع نہیں رکھتی کیوں کہ ہرقل بادشاہ کافر و مشرک تھا اور وہ جنبی کے حکم میں ہے جب اس کو قرآن لکھ کر بھیجا گیا اور اس کا قرآن پڑھنا درست ٹھرا تو حائضہ اور جنبی کا بھی قرآن پڑھنا درست ٹھرا۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «قيل مقصود البخاري ذكر فى هذا الباب من الاحاديث والاثار ان الحيض وما فى معناه من الجنابة لا ينافي جميع العبادات» [فتح الباري ج1، ص537]
"مقصود امام بخاری رحمہ اللہ کا ان تمام احادیث اور آثار سے یہ ہے کہ عورت کا حالت حیض میں اور جنبی کو حالت جنابت میں قرآن اور ذکر کرنا سب جائز ہے۔"
لہٰذا امام بخاری رحمہ اللہ کا باب قائم فرمانا کہ حائضہ تمام کام کرے حج میں سوائے طواف کے اور احادیث پیش کرنا کہ ہرقل نے قرآن کی آیت پڑھی مناسبت ہم نے بیان کیا کہ ہرقل جنابت کے حکم میں ہے جب وہ تلاوت کر سکتا ہے تو حائضہ کیوں کر نہیں۔
◈ علامہ کرمانی نے ایک اور بھی تطبیق پیش کی ہے کہ عورت کا حیض ہر ماہ آنا ہے اگر وہ قرآن نہ پڑھے گی تو بھول جائے گی۔ تفصيل كے لئے ديكهئے: [الكواكب الدراري شرح صحيح الباري ج2، ص167]
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ حائضہ اور جنبی کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کی اجازت ہے۔ جیسا کہ: ◈ شیخ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «اعلم ان البخاري عقد باباً فى صحيحه يدل على انه قائل بجواز قراءة القرآن للجنب والحائضة» [تحفةالاحوذي، ج1، ص124]
"جان لو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں جو باب قائم فرمایا وہ اس مسئلہ پر دلالت ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ قائل ہیں جواز کے کہ جنبی اور حائضہ قرآن کریم کی قرأت کر سکتے ہیں۔"
امام بخاری رحمہ اللہ کی نظر میں کوئی ایسی صحیح روایت نہیں جس میں جنبی اور حائضہ کو قرأت سے روکا گیا ہو۔ گو اس سلسلے میں متعدد روایات ہیں اور بعض کی کئی محدثین نے تصحیح بھی کی ہے۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ کوئی صحیح روایت اس سلسلے میں نہیں ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی نظر میں کوئی روایت درجہ صحت تک نہیں پہنچتی۔ اس لئے انہوں نے جنبی اور حائضہ کے لئے قرأت قرآن کو جائز رکھا۔ ائمہ فقہاء میں سے امام مالک رحمہ اللہ سے دو روایات ہیں۔ جو حائضہ اور نفاس والی خواتین کو قرآن پڑھنے سے روکتی ہیں مگر وہ روایات پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتی پہلی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: «عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم لا يقرأ الجنب ولا الحائض شيئا من القرآن» [رواه ابوداؤد، رقم 229، سنن الترمذي، رقم: 146]
اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے خصوصاً جب کہ وہ حجازیوں سے روایت کرے اور یہ روایت ان میں سے ہے۔ ديكهئے: [نيل الاوطار، شرح منتقي الاخبار، ج1، ص 293]
دوسری روایت ہے: «لا تقرا الحائض ولا نفساء من القرآن شيئاً» [رواه الدارقطني فى سنة: ج1ص121]
یعنی حائضہ اور نفاس والی قرآن سے کچھ نہ پڑھے اس کی سند میں محمد بن الفضیل ہے جو کہ متروک ہے اور اس کی طرف وضع کرنے کا حکم ہے۔
◈ امام بیہقی فرماتے ہیں: «هَذَا الْاَثَرُ لَيْسَ بِقوِي» "لہٰذا حائضہ اور نفساء کے قرآن نہ پڑھنے کے بارے میں کوئی صریح دلیل نہیں ہے۔" اسی لیے امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا: «والحديث هذا والذي بعده لا يصلحان للاحتجاج بهما على ذالك»
ابن عمر اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے روایات صحت کے اعتبار سے اس لائق نہیں کہ ان سے احتجاج اخذ کیا جائے۔ لہٰذا حائضہ اور نفساء اگر لمبے عرصے تک قرآن نہیں پڑھیں گی تو وہ بھول جائیں گے۔ ممکن ہے کہ یہ سبب بھی ہو کہ ان کی ممانعت کے لیے کوئی صحیح حکم کسی حدیث سے ثابت نہیں اور جہاں تک تعلق ہے جنبی کا تو اس وقت انتہائی مختصر ہے جیسے ہی اس نے غسل کیا وہ پاک ہو گیا جنبی کے بارے میں قرآن کی تلاوت نہ کرنے کی حدیث مسند ابی یعلی الموصلی میں موجود ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنبی قرآن نہ پڑھے۔ ديكهئے: [مسند ابي يعلي ج1، ص188۔ رجاله موثقون]
جیسا کہ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب مبارک پوری مرحوم ؒ فرماتے ہیں: '' اعلم أن البخاري عقد بابا في صحیحه یدل علی أنه قائل بجواز قراءة القرآن للجنب والحائض۔
'' (تحفة الأحوذي، جلد: 1، ص: 124)
حضرت امام بخاری ؒ کی نظر میں کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جس میں جنبی اور حائضہ کو قراءت سے روکا گیا ہو۔
گو اس سلسلے میں متعدد روایات ہیں اور بعض کی متعدد محدثین نے تصحیح کی ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ کوئی صحیح روایت اس سلسلہ میں نہیں ہے۔
جیسا کہ صاحب ایضاح البخاری نے جزء11، ص: 94 پر تحریر فرمایا ہے: درجہ حسن تک کی روایات توموجود ہیں، البتہ ان تمام روایات کا قدر مشترک یہی ہے کہ جنبی کو قراءت قرآن کی اجازت نہیں ہے۔
لیکن چونکہ حضرت امام بخاری ؒ کی نظر میں کوئی روایت درجہ صحت تک پہنچی ہوئی نہیں ہے۔
اس لیے انھوں نے جنبی اور حائضہ کے لیے قراءت قرآن کو جائز رکھا ہے۔
ائمہ فقہاء میں سے حضرت امام مالک ؒ سے دوروایتیں ہیں: ایک میں جنبی اور حائضہ ہردو کوقراء ت کی اجازت ہے اور طبری ؒ، ابن منذر ؒ اور بعض حضرات سے بھی یہ اجازت منقول ہے۔
حضرت مولانا مبارک پوری قدس سرہ فرماتے ہیں: ''تمسك البخاري ومن قال بالجواز غیرہ کالطبري وابن المنذر و داود بعموم حدیث کان یذکر اللہ علی کل أحیانه لأن الذکر أعم أن یکون بالقرآن أوبغیرہ الخ'' (تحفة الأحوذي، ج: 1، ص: 124)
’’یعنی حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے علاوہ دیگر مجوزین نے حدیث یذکراللہ علی کل احیانہ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرحال میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے)
سے استدلال کیا ہے۔
اس لیے کہ ذکرمیں تلاوت قرآن بھی داخل ہے۔
‘‘ مگرجمہور کا مذہب مختار یہی ہے کہ جنبی اور حائضہ کو قراء ت قرآن جائز نہیں۔
تفصیل کے لیے تحفۃ الاحوذی کا مقام مذکورہ مطالعہ کیاجائے۔
صاحب ایضاح البخاری فرماتے ہیں کہ درحقیقت ان اختلافات کا بنیادی منشاء اسلام کا وہ توسع ہے جس کے لیے آنحضور ﷺ نے اپنی حیات میں بھی فرمایا تھا اور ایسے ہی اختلافات کے متعلق آپ نے خوش ہو کر پیشین گوئی کی تھی کہ میری امت کا اختلاف باعث رحمت ہوگا۔
(إیضاح البخاري: ج2، ص: 32) (امت کا اختلاف باعث رحمت ہونے کی حدیث صحیح نہیں)
1۔
بظاہر عنوان کا یہ مقصد ہے کہ حائضہ بحالت حیض حج کے تمام ارکان ادا کرسکتی ہے۔
لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتی اور نہ اسے صفا مروہ کی سعی کرنے کی اجازت ہے، مگر امام بخاری ؒ نے جو آثار پیش کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حائضہ اور جنبی كو قرآن کریم پڑھنے کی اجازت ہے۔
اس سے پہلے کچھ تمہیدات بیان کی تھیں:۔
قرب نجاست میں قرآن پڑھا جاسکتا ہے۔
۔
حائضہ کی گود میں قرآن پڑھنے کی اجازت ہے۔
۔
حائضہ عورت جزدان کی ڈوری سے قرآن اٹھا سکتی ہے۔
اب اس عنوان میں’’حدیث دیگراں‘‘ کے طور پر اپنے مقاصد کو بیان فرمایا ہے کہ نہ حیض قرآن کریم کی تلاوت سے باعث رکاوٹ ہے اور نہ بحالت جنابت ہی اس کی ممانعت ہے۔
جیساکہ حافظ ابن حجر ؒ، ابن بطال ؒ اور ابن رشید ؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے حدیث عائشہ ؓ سے یہ دلیل لی ہے کہ حائضہ اور جنبی کے لیےقرآن مجید کی تلاوت جائز ہے، کیونکہ ممانعت کے سلسلے میں مناسک حج میں سے صرف طواف کا ذکر ہے۔
یعنی طواف کے علاوہ دیگر مناسک حج ادا کرسکتی ہے۔
اور طواف بھی اس لیے منع فرمایا کہ یہ بھی ایک مخصوص نماز ہے، باقی اعمال حج ذکر، تلبیہ اور دعا پر مشتمل ہیں، حائضہ عورت کو ان میں سے کسی کی ممانعت نہیں ہے، اسی طرح جنبی کے لیے بھی منع نہیں ہیں، کیونکہ حائضہ کی حالتِ حدث میں زیادہ غلظت پائی جاتی ہے۔
جب حائضہ کے لیے یہ جائز ہے تو جنبی کے لیے بالاولیٰ جائز ہونا چاہیے۔
جب ذکر اللہ جائز ہے تو تلاوت بھی جائز ہونی چاہیے، کیونکہ ان میں کوئی فرق نہیں۔
اگرحائضہ اورجنبی کے لیے تلاوت قرآن کی ممانعت امرتعبدی ہے تو یہ دلیل خاص کا محتاج ہے۔
اس کی ممانعت کے متعلق جو احادیث وارد ہیں وہ امام بخاری ؒ کے نزدیک درجہ صحت کو نہیں پہنچتیں۔
اگرچہ مانعین کے نزدیک یہ احادیث وارده مجموعی حیثیت سے حجت بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کی تاویل کی جاسکتی ہے۔
(فتح الباري: 529/1)
2۔
امام بخاری ؒ حائضہ اور جنبی کے لیے جوازقراءت قرآن کا موقف اختیار کرنے میں منفرد نہیں۔
اسلاف میں سے متعدد حضرات، مثلاً: امام طبری ؒ، ابن منذر ؒ اور داود و دیگر کے نزدیک جنبی اور حائضہ کے لیے قراءت قرآن کی اجازت ہے، لیکن ان حضرات کے پاس اس کے جواز کے لیے کوئی صریح اور واضح دلیل نہیں ہے، بلکہ احادیث وآثارکے اطلاقات وعمومات سے ان حضرات نے استدلال کیا ہے، لیکن اطلاق وعموم مانعین جواز کے خلاف اس لیے حجت نہیں بن سکتا کہ مخصوص حکم کے سامنے یہ عمومات واطلاقات کارآمد نہیں ہوسکتے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے جن آثار سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے، اگرچہ ان سب میں نزاع و بحث ہوئی ہے جس کا ذکرطوالت کا باعث ہے۔
البتہ امام بخاری کے طرز تصرف سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان سے جواز قراءت ہی کا اردہ کررہے ہیں۔
جمہور کی طرف سے منع تلاوت کے لیے حضرت علی ؓ سے مروی حدیث کو پیش کیا جاتاہے: ’’رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید پڑھنے پڑھانے سے جنابت کے علاوہ اور کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی۔
‘‘ (سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 229)
اس روایت کو امام ترمذی ؒ اورامام ابن حبان ؒ نے صحیح کہا ہے۔
اگرچہ بعض حضرات نے اس کے کچھ راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت حسن کی قسم سے ہے اور دلیل کے طور پیش ہونےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیکن کہا گیا ہے کہ یہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل مجرد ہے جو دوسروں پر حرام ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
امام طبری ؒ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ مانعین اور قائلین کے دلائل کے پیش نظر اسے اکمل پر محمول کیاجائے گا، یعنی بہتر ہے کہ ایسی حالت میں قراءت سے پرہیز کیا جائے، تاہم جواز کے لیے گنجائش ہے۔
وہ حدیث جس میں ہے کہ حائضہ اور جنبی قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی تلاوت نہیں کرسکتے، تمام طرق سے ضعیف اور ناقابل استدلال ہے۔
(فتح الباري: 530/1)
3۔
امام بخاری ؒ نے آخری مرفوع حدیث، حدیث عائشہ ؓ پیش کی ہے جسے پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے۔
اس میں ہے کہ تمھیں بیت اللہ کے طواف کے علاوہ ہرچیز کی اجازت ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال یہی ہے کہ حائضہ طواف کے علاوہ تمام مناسک حج ادا کرسکتی ہے، ان مناسک میں تلبیہ، ذکر اور دعائیں وغیرہ ہیں جن میں قرآن مجید بھی ہے۔
جب حائضہ کو اجازت ہے تو جنبی کو بالاولیٰ تلاوت قرآن کی اجازت ہونی چاہیے۔
لیکن ہم عرض کریں گے کہ قراءت قرآن بطوردعا اورقراءت قرآن بطور تلاوت ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
بطوردعا اور ذکر قرآن کی آیات پڑھنے میں کسی کو اختلاف نہیں۔
اختلاف یہ ہے کہ قرآن مجید کو تلاوت کے طور پر حائضہ اور جنبی کے لیے پڑھنے کی اجازت ہے یا نہیں۔
جمہور کے ہاں اس کی اجازت نہیں ہے۔
حضرت امام بخاری کی نظر میں کوئی صحیح روایت ایسی نہیں ہے جس میں جنبی اور حائضہ کو قراءت قرآن سے روکا گیا ہو، اس لیے انھوں نے ان کے لیے تلاوت قرآن کو جائز رکھا ہے، اگرچہ حکم امتناعی پر مشتمل متعدد روایات ہیں، بعض محدثین سے ان کی تصحیح بھی منقول ہے، لیکن دوسرے علماء کے نزدیک درجہ حسن کی روایات موجود ہیں۔
ان متعدد روایات میں قدر مشترک یہی مضمون ہے کہ حائضہ اورجنبی کے لیے قراءت قرآن کی اجازت نہیں۔
بہرحال مسئلہ زیربحث میں دونوں ہی موقف ہیں۔
امام بخاری ؒ کے ہم نواؤں میں امام ابن حزم ؒ، امام ابن تیمیہ ؒ، امام ابن القیم ؒ، وغیرہ جیسے اساطین علم اور ائمہ اعلام ہیں۔
اس لیے اس موقف کو بھی دلائل کے اعتبار سے بےوزن قرارنہیں دیا جاسکتا۔
دوسرا موقف احتیاط پر مبنی ہے اور اس کے قائلین تعداد میں زیادہ ہیں۔
واللہ أعلم۔
«. . . أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أَهْلَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَكُنْتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا حَاضَتْ وَلَمْ تَطْهُرْ حَتَّى دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لَيْلَةُ عَرَفَةَ وَإِنَّمَا كُنْتُ تَمَتَّعْتُ بِعُمْرَةٍ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنْ عُمْرَتِكِ فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ " . . . .»
". . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا، میں تمتع کرنے والوں میں تھی اور ہدی (یعنی قربانی کا جانور) اپنے ساتھ نہیں لے گئی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے متعلق بتایا کہ پھر وہ حائضہ ہو گئیں اور عرفہ کی رات آ گئی اور ابھی تک وہ پاک نہیں ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! آج عرفہ کی رات ہے اور میں عمرہ کی نیت کر چکی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سر کو کھول ڈال اور کنگھا کر اور عمرہ کو چھوڑ دے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے حج پورا کیا۔ اور لیلۃ الحصبہ میں عبدالرحمٰن بن ابوبکر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ وہ مجھے اس عمرہ کے بدلہ میں جس کی نیت میں نے کی تھی تنعیم سے (دوسرا) عمرہ کرا لائے۔ . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/بَابُ امْتِشَاطِ الْمَرْأَةِ عِنْدَ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ:: 316]
تمتع اسے کہتے ہیں کہ آدمی میقات پر پہنچ کر صرف عمرہ کا احرام باندھے پھر مکہ پہنچ کر عمرہ کر کے احرام کھول دے۔ اس کے بعد آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے۔ ترجمہ الباب اس طرح نکلا کہ جب احرام کے غسل کے لیے کنگھی کرنا مشروع ہوا تو حیض کے غسل کے لیے بطریق اولیٰ ہو گا۔ تنعیم مکہ سے تین میل دور حرم سے قریب ہے۔ روایت میں لیلۃ الحصبۃ کا تذکرہ ہے اس سے مراد وہ رات ہے جس میں منیٰ سے حج سے فارغ ہو کر لوٹتے ہیں اور وادی محصب میں آ کر ٹھہرتے ہیں، یہ ذی الحجہ کی تیرہویں یا چودہویں شب ہوتی ہے، اسی کو لیلۃ الحصبہ کہتے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور دیگر شارحین نے مقصد ترجمہ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ آیا حائضہ حج کا احرام باندھ سکتی ہے یا نہیں، پھر روایت سے اس کا جواز ثابت کیا ہے۔ گو یہ بھی درست ہے مگر ظاہری الفاظ سے معنی یہ ہیں کہ حائضہ کس حالت کے ساتھ احرام باندھے یعنی غسل کر کے احرام باندھے یا بغیر غسل ہی، سو دوسری روایت میں غسل کا ذکر موجود ہے اگرچہ پاکی حاصل نہ ہو گی، مگر غسل احرام سنت ہے۔ اس پر عمل ہو جائے گا۔
1۔
امام بخاری ؒ غسل حیض کی امتیازی حیثیت کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں، اس سے پہلے بتایا تھا کہ غسل حیض کے وقت کستوری کا استعمال غسل جنابت سے مابہ الامتیاز ہے اور اس عنوان میں ثابت کیا کہ غسل حیض کے وقت جنابت کے برعکس سر کے پراگندہ بالوں کی پراگندگی کو کنگھی کے ذریعے سے دور کرنا ہوگا، تاکہ انھیں دھونے میں آسانی رہے۔
آئندہ باب میں بالوں کی مینڈھیوں کو کھولنے کا ذکر ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کے نزدیک غسل حیض کے وقت نقض راس (سر کے بالوں کا کھولنا)
ضروری ہے، جبکہ غسل جنابت میں ان کا کھولنا ضروری نہیں۔
جیسا کہ حضرت اُم سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ میں اپنے بالوں کی بہت مینڈھیاں کرتی ہوں، کیا مجھے غسل جنابت کے وقت انھیں کھولنا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘‘ (صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 744 (330)
البتہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ اس معاملے میں سختی کیا کرتے تھے، وہ عورتوں کو غسل جنابت کے وقت بھی سر کھولنے کا حکم دیتے تھے۔
رد عمل کے طور پر حضرت عائشہ ؓ فرماتیں کہ وہ سر کھولنے کے بجائے سر منڈوانے کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ رسول اللہ ﷺ اور میں (اکٹھے مل کر)
ایک ہر برتن سے غسل کیا کرتے تھے اور میں اپنے سر پر تین بار ہی پانی بہاتی تھی۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 747 (331)
صحیح مسلم ہی کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اُم سلمہ ؓ کو فرمایا تھا کہ تمھیں اپنے سر پر صرف تین چلو پانی ڈال لینا کافی ہے۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 744 (330)
امام بخاری ؒ کے نزدیک بالوں کے متعلق تخفیفی حکم غسل جنابت میں ہے، غسل حیض میں نہیں، غسل حیض میں بالوں کو کھول کر ان میں کنگھی کرنی ہوگی، لیکن جمہور اسے مستحب کہتے ہیں، کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اُم سلمہ ؓ نے غسل جنابت اور غسل حیض دونوں کے متعلق پوچھا تھا کہ ان میں بالوں کا کھولنا ضروری ہے؟ تو آپ نے فرمایا تھا کہ نہیں۔
(صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 745 (330) (بعض علماء نے اس روایت میں (والحیضة)
کے الفاظ کو شاذ قراردیا ہے اور یہی بات راجح ہے۔
اس لیے جمہور کا استدلال درست نہیں۔
جمہور کے نزدیک غسل جنابت اور غسل حیض میں کوئی فرق نہیں، بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔
اگر بالوں کو کھولے بغیر یہ کام ہو جائے تو انھیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔
اگر بغیر کھولے جڑوں تک پانی نہ پہنچ سکے تو کھولنا ضروری ہے، ہمارے نزدیک صحیح بخاری کی روایت کو ترجیح ہے، جس میں غسل حیض کے وقت بالوں کو کھولنے کا ذکر ہے۔
واضح رہے کہ حدیث الباب میں غسل کا ذکر نہیں ہے، لیکن عنوان میں امام بخاری نے غسل کی قید لگائی ہے، ان کے نزدیک بالوں کو کھولنا اور ان میں کنگھی کرنا غسل سے کنایہ ہے یا انھوں نے دوسری روایات پر اعتماد کیا ہے جن میں غسل کا ذکر ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2937 (1213)
اب دو صورتیں ہیں۔
اس غسل کو حیض ہی سے متعلق قراردیا جائے، اگرچہ حیض ابھی ختم نہیں ہوا، تاہم غسل نجاست کی تخفیف و تقلیل کی غرض سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔
غسل احرام کو سنت تسلیم کیا جائے جس میں جسم کی نظافت وصفائی پیش نظر ہوتی ہے۔
غسل احرام سنت کے درجے میں ہے۔
اگر اس کی نظافت و صفائی کی وجہ سے غسل کے وقت بال کھولنے اور ان میں کنگھی کرنے کی ضرورت ہو تو غسل حیض میں بدرجہ اولیٰ اس ضرورت کو تسلیم کرنا پڑے گا، صفائی اور پاکیزگی کا مقصد تو دونوں جگہ موجود ہے، بلکہ غسل حیض کو جو اہمیت حاصل ہے، وہ کسی صورت میں غسل احرام کو نہیں، کیونکہ غسل حیض فرض ہے اور اس میں نجاست کا ازالہ مقصود ہوتا ہے، جبکہ غسل احرام سنت ہے اور اس میں صرف جسم کی صفائی پیش نظر ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 541/1)
2۔
شب محصب سے مراد وہ رات ہے جس میں حج سے فراغت کے بعد اہل مدینہ قافلہ بندی کے لیے ٹھہرتے تھے. ان کا مقام پڑاؤ وادی محصب تھا جو مکہ اور منی کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
پھر وہاں سے جمع ہو کر رات کے آخری حصے میں مدینے کی طرف روانگی ہوتی تھی. ذوالحجہ کی تیرھویں یا چودھویں رات کو لیلة الحصبة یا شب محصب کہا جاتا ہے۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ؟ فَقَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجِي " . . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو (حج میں) حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف (زیارت) نہیں کیا۔ عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو۔ . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَيْضِ/بَابُ الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ:: 328]
اسی کو طواف الافاضہ بھی کہتے ہیں۔ یہ دسویں تاریخ کو منیٰ سے آ کر کیا جاتا ہے۔ یہ طواف فرض ہے اور حج کا ایک رکن ہے، لیکن طواف الوداع جو حاجی کعبہ شریف سے رخصتی کے وقت کرتے ہیں، وہ فرض نہیں ہے۔ اس لیے وہ حائضہ کے واسطے معاف ہے۔
1۔
طواف کی تین اقسام ہیں:۔
طواف قدوم:۔
اسے طواف تحیہ بھی کہا جاتا ہے۔
بیت اللہ میں داخل ہوتے ہی پہلے یہ طواف کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت ِحیض میں مکہ پہنچے تویہ طواف ساقط ہوجاتا ہے۔
۔
طواف افاضہ:۔
اسے طواف زیارت بھی کہاجاتاہے۔
یہ حج کارکن ہے۔
یہ طواف ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو کیا جاتا ہے۔
یہ کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔
اگرعورت کو حیض آجائے تو وہ اس کےختم ہونے کا انتظار کرے اور طواف افاضہ کرکے وطن واپس آئے۔
۔
طواف وداع: اسے طواف صدر بھی کہتے ہیں جو وطن واپسی کے وقت کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی عورت حالت حیض میں ہے تو طواف وداع بھی ساقط ہوجاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ طواف افاضہ،جوحج کارکن ہے، کرلینے کے بعداگر کسی خاتون کو حیض شروع ہوجائے تو اسے طواف وداع کے لیے مکہ مکرمہ میں ٹھہرنا ضروری نہیں، وہ اپنے گھر واپس آسکتی ہے، کیونکہ شریعت نے اسے ساقط کردیا ہے۔
طواف افاضہ کو طواف رکن، طواف زیارت اورطواف یوم النحر بھی کہتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ کا پہلے فتویٰ تھا کہ حائضہ کو طواف وداع کے لیے طہارت کا انتظار کرنا ہوگا۔
جب انھیں پتہ چلاکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی رخصت دی تھی تو اس موقف سے رجوع کرلیا یا رخصت کا پہلے علم تھا، لیکن وہ بھول گئے اور اسے متاثر کردینے کا فتویٰ دینے لگے، بعد میں یاد دہانی کرانے سے اپنے فتوی سے دستبردار ہوگئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتی۔
(فتح الباري: 555/1)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو " ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: " اپنا سر کھول لو۔" [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
سر کھولنے سے مراد یہ ہے کہ گوندھے ہوئے بال کھول کر سر دھویا جائے۔
یہ حکم غسل جنابت میں نہیں ہے۔ (دیکھیے حدیث: 604، 603)
(2)
بعض حضرات صحیح مسلم میں وارد الفاظٰ (فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ لَا) (صحيح مسلم، الحيض، باب حكم ضفائر المغتسلة، حديث: 330)
سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عورت کے لیے غسل حیض میں بالوں کا کھولنا ضروری نہیں ہے لیکن صاحب عون اور شیخ البانی ؒ نے صراحت کی ہے کہ صحیح مسلم کے ایک طریق میں (الحیضة)
کا جو اضافہ ہے وہ شاذ ہے اصل روایت (الحیضة)
کے بغیر ہی محفوظ ہے۔ دیکھیے: (عون المعبود، الطھارة، باب المرأۃ ھل تنقص شعرھا عند الغسل، والصحیحة للألبانی، حدیث: 188)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 945]
عَقْريٰ: حَلْقی کے لغوی معانی مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن عرب لوگ یہ الفاظ اس قسم کے مواقع پر لغوی معانی کے اعتبار سے استعمال نہیں کرتے، محض تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
فوائد ومسائل: 1۔
اگر کسی عورت کو مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے یا طواف کا آغاز کرنے سے پہلے حیض شروع ہو جائے تو وہ ابتدائی طواف (طواف قدوم)
نہیں کرے گی اور صفا مروہ کی سعی چونکہ بیت اللہ کے طواف کے بعد کرنی ہوتی ہے اس لیے وہ سعی بھی نہیں کر سکے گی ان کے علاوہ حج کے تمام مناسک (اعمال)
بجالائے گی، اسی طرح اگر عورت کو طواف افاضہ (جو دس 10ذوالحجۃ کو کیا جاتا ہے)
کے بعد حیض شروع ہو جائے تو اسے آخری طواف (طواف وداع کے لیے رکنا ضروری نہیں ہے)
وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہو سکے گی۔
2۔
صحیح صورت حال یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ سےمَحْصَبْ کی طرف چڑھ رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم محصب سے مکہ کی طرف اتر نے کے لیے تیار ہو چکے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پہنچنے پر روانہ ہو گئے جیساکہ (حدیث نمبر123)
میں گزرچکا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی) کو مقام شجرہ میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ (اسماء سے کہو کہ) وہ غسل کر لے پھر تلبیہ پکارے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1743]
اس بارے میں حضرت علامہ نواب صدیق حسن خان ؒ فرماتے ہیں۔
میقاتش حل است ازبرائے مکی بحدیث صحیحین وغیرہما کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمن بن ابی بکر را امر فرمود باعائشۃ بسوئے تنعیم برآید ووئے ازانجا عمرہ برآردوہر کہ آنرااز مسکن ومکہ صحیح گوید جواب دادہ کہ این امر بنابر تطیب خاطر عائشہ بو د تا ازحل بکہ درآید چنانکہ دیگر ازواج کردنداواین واجب خلاف ظاہر است۔
ہاصل آنکہ ازوے ﷺ تعین میقات عمرہ واقع نشدہ وتعیین میقات حج ازبرائے اہل ہر جست ثابت گشتہ پس اگر عمرہ دریں مواقیت ہمچوحج باشد آنحضرت ﷺ درحدیث صحیح گفتہ فمن کان دونهم فمهله من أهله وکذلك أهل مکة یهلون منها واین در صحیحین است بلکہ درحقیقت ابن عباس بعد ذکر مواقیت اہل ہر محل تصریح آمدہ با آنکہ رسول خدا ﷺ فرمود حدیث فهن لأ هلهن ولمن أتی علیهن من غیر أهلھن لمن کان یرید الحج والعمرة واین حدیث درصحیحین است ودران تصریح بعمرہ است۔
(بدور الأهلة، ص: 152)
اہل مکہ کے لئے عمرہ کا میقات حل ہے۔
جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو فرمایا کہ وہ اپنی بہن عائشہ کو تنعیم لے جائیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کرآئیں اور جن علماء نے یہ کہا کہ عمرہ کا میقات اپنا گھر اور مکہ ہی ہے، انہوںنے اس حدیث کے بارے میں جواب دیا کہ یہ آنحضرت ﷺ نے محض حضرت عائشہ ؓ کی دل جوئی کے لئے فرمایا تھا تاکہ وہ حل سے کر آئیں جیسا کہ دیگر ازواج مطہرات نے کیا تھا اور یہ جواب ظاہر کے خلاف ہے، حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ سے عمرہ کے لیے میقات کا تعیین واقع نہیں ہوا اور میقات حج کا تعیین ہر جہت والوں کے لئے ثابت ہواہے۔
پس اگر عمرہ ان مواقیت میں حج کی مانند ہو تو آنحضرت ﷺ نے حدیث صحیح میں فرمایاہے کہ جو لوگ میقات کے اندر ہوں ان کا میقات ان کا گھر ہے وہ اپنے گھروں سے احرام باندھیں۔
اسی طرح مکہ والے بھی مکہ ہی سے احرام باندھیں اور یہ حدیث صحیحین میں ہے۔
بلکہ حدیث ابن عباس ؓ میں ہرجگہ کی میقات کا ذکر کرنے کے بعد صراحتاً آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس یہ میقات ان لوگوں کے لئے ہیں جو ان کے اہل ہیں اور جو بھی ادھر سے گزریں حالانکہ وہ یہاں کے باشندے نہ ہوں۔
پھر ان کے لئے میقات یہی مقامات ہیں جو بھی حج اور عمرے کا ارادہ کر کے آئیں۔
پس اس حدیث میں صراحتاً عمرہ کا لفظ موجود ہے۔
نواب مرحوم کا اشارہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب حج کا احرام مکہ والے مکہ ہی سے باندھیں گے اور ان کے گھر ہی ان کے میقات ہیں تو عمرہ کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
کیونکہ حدیث ہذا میں رسول کریم ﷺ نے حج اور عمرہ کا ایک ہی جگہ ذکر فرمایا ہے۔
بہ سلسلہ میقات جس قدر احکامات حج کے لئے ہیں وہی سب عمرہ کے لئے ہیں۔
ان کی بنا پر صرف مکہ شریف سے عمرہ کا احرام باندھنے والوں کے لئے تنعیم جانا ضروری نہیں ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
(1)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج میں زیب وزینت اور تکلفات کا ترک کرنا افضل ہے، اس میں انسان کو اپنی سہولیات کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔
اگر اس سفر میں کوئی پریشانی یا تکلیف آئے تو اسے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے، کسی قسم کا حرف شکایت اپنی زبان پر نہیں لانا چاہیے، کیونکہ یہ سفر،جہاد سے کم نہیں ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو عمرہ کرنے کےلیے تنعیم روانہ کیا کیونکہ حرم کی قریبی حدود ہی مقام تھا۔
اس کے متعلق مکمل تفصیل ہم آئندہ بیان کریں گے۔
إن شاءاللہ
ایک تمتع وہ یہ ہے کہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے اور مکہ میں جاکر طواف اور سعی کر کے احرام کھول ڈالے۔
پر آٹھویں تاریخ کو حرم ہی سے حج کا احرام باندھے۔
دوسرے قران وہ یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے صرف عمرے کا احرام باندھے پھر حج کو بھی اس میں شریک کر لے۔
اس صورت میں عمرے کے افعال حج میں شریک ہوجاتے ہیں اور عمرے کے افعال علیحدہ نہیں کرنا پڑتے۔
تیسرے حج مفرد یعنی میقات سے صرف حج ہی کا احرام باندھے اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اس کا حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینا۔
یہ ہمارے امام احمد بن حنبل اور جملہ اہلحدیث کے نزدیک جائز ہے۔
اور امام مالک اور شافعی اور ابو حنیفہ اور جمہور علماء نے کہا کہ یہ امر خاص تھا ان صحابہ سے جن کو آنحضرت ﷺ نے اس کی اجازت دی تھی اور دلیل لیتے ہیں ہلال بن حارث کی حدیث سے جس میں یہ ہے کہ تمہارے لئے خاص ہے اور یہ روایت ضعیف ہے اعتماد کے لائق نہیں۔
امام ابن قیم اور شوکانی اور محققین اہلحدیث نے کہا کہ فسخ حج کو چوبیس صحابہ نے روایت کیاہے۔
ہلال بن حارث کی ایک ضعیف روایت ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
آپ نے ان صحابہ کو جو قربانی نہیں لائے تھے، عمرہ کر کے احرام کھول ڈالنے کا حکم دیا۔
اس سے تمتع اور حج کو فسخ کر کے عمرہ کر ڈالنے کا جواز ثابت ہوا اورحضرت عائشہ ؓ کو جو حج کی نیت کر لینے کا حکم دیا اس سے قران کا جواز نکلا۔
گو اس روایت میں اس کی صراحت نہیں ہے مگر جب انہوں نے حیض کی وجہ سے عمرہ ادا نہیں کیا تھا اور حج کرنے لگیں تو یہ مطلب نکل آیا۔
اوپر کی روایتوں میں اس کی صراحت ہوچکی ہے۔
(وحيدالزمان مرحوم)
(1)
رسول اللہ ﷺ نے ان صحابہ کرام ؓ کو جو قربانی ساتھ نہیں لائے تھے عمرہ کر کے احرام کھول دینے کا حکم دیا تو اس سے حج تمتع ثابت ہوا، نیز اس سے حج کو فسخ کر کے عمرے میں بدل دینے کا جواز بھی ثابت ہوا۔
(2)
امام بخاری ؒ کا عنوان بھی یہی ہے، البتہ اس حدیث میں ہے کہ ہمارا صرف حج کرنے کا ارادہ تھا جبکہ حضرت عروہ کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ ؓ نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔
(صحیح البخاري، العمرة، حدیث: 1783، والمغازي، حدیث: 4395)
علامہ اسماعیلی نے اس روایت کو غلط قرار دیا ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ سے احرام عمرے کا ذکر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ دور جاہلیت میں عمرے کے متعلق یہ خیال تھا کہ اسے حج کے مہینوں میں نہیں کرنا چاہیے، اس لیے صحابہ کرام ؓ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے۔
ان میں حضرت عائشہ ؓ بھی تھیں۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے جب وضاحت کی اور حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو جائز قرار دیا تو حضرت عائشہ ؓ نے عمرے کا احرام باندھ لیا، اس لیے حضرت عروہ کی روایت کو غلط قرار دینے کی ضرورت نہیں۔
ان مختلف روایات میں تطبیق کی یہ صورت بھی ممکن ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے حج افراد کا احرام باندھا جیسا کہ دیگر صحابہ کرام نے کیا تھا۔
مذکورہ حدیثِ اسود میں اسی کا بیان ہے۔
پھر آپ نے احرامِ حج کو عمرے میں بدل دینے کا حکم دیا تو حضرت عائشہ ؓ نے بھی اسی عمرے کے احرام میں بدل لیا جیسا کہ حدیث عروہ میں ہے لیکن جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عائشہ اپنے عارضے کی وجہ سے عمرہ نہ کر سکتی تھیں، اس لیے آپ نے عمرہ چھوڑ دینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم حج کے احرام کی نیت کر لو۔
(فتح الباري: 534/3)
(1)
اس حدیث سے عنوان کا پہلا جز تو ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرے حصے کا ثبوت اس سے نہیں ہوتا۔
شاید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اتنا اضافہ بیان کیا ہے کہ حائضہ عورت صفا و مروہ کا طواف بھی نہ کرے۔
اس اضافے کو امام مالک سے یحییٰ بن یحییٰ نیسا پوری کے علاوہ کسی دوسرے نے بیان نہیں کیا۔
اگر یہ اضافہ صحیح ہو تو بھی اس کی بنیاد پر صفا و مروہ کی سعی کے لیے وضو کو شرط قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ صفا و مروہ کی سعی سے پہلے طواف ضروری ہے۔
جب بے وضو طواف درست نہیں تو اس کے تابع ہونے کی وجہ سے سعی بھی بے وضو منع ہو گی۔
ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر رحمۃ اللہ علیہما سے بیان کیا ہے کہ حائضہ عورت تمام ارکان حج بجا لائے لیکن بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی نہ کرے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 129/2)
اسلاف میں سے کسی نے بھی صفا و مروہ کی سعی کے لیے وضو کو شرط قرار نہیں دیا، البتہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے ایسا منقول ہے۔
(فتح الباري: 637/3) (2)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان کے دوسرے جز کو بایں طور پر ثابت کیا ہے کہ اس حدیث سے حائضہ عورت کو بیت اللہ کا طواف کرنے کی ممانعت ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفا و مروہ کی سعی بغیر وضو کے اور بلا طہارت ہو سکتی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ اگر طواف کے بعد اور سعی سے پہلے عورت کو حیض آ جائے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کرے۔
ہمارے نزدیک صفا و مروہ کی سعی کے لیے وضو کی پابندی لگانا محل نظر ہے۔
واللہ أعلم۔
حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت ابوحسان کی حدیث لا کر احادیث مختلفہ میں اس طرح تطبیق دی کہ جابر اور عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان یوم اول سے متعلق ہے اور حضرت ابن عباس کی حدیث کاتعلق بقایا دنوں سے ہے، یہاں تک بھی مروی ہے کہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ الْبَيْتَ كُلَّ لَيْلَةٍ مَا أَقَامَ بِمِنًى یعنی ایام منیٰ میں آپ ﷺ ہر رات مکہ شریف آکر طواف الزیارۃ کیا کرتے تھے۔
(فتح الباري)
(1)
رسول اللہ ﷺ کا خیال تھا کہ حضرت صفیہ ؓ نے طواف زیارت نہیں کیا اور وہ پاک ہونے تک ہمیں روکے رکھے گی کیونکہ طواف زیارت فرض ہے، اس کے بغیر حج نہیں ہوتا، اس کے بعد ہمیں مدینہ طیبہ روانہ ہونا ہے لیکن جب آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے دسویں تاریخ کو طواف زیارت کر لیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اب ٹھہرنے کی ضرورت نہیں بلکہ کوچ کرو اور طواف وداع ترک کرنے کی رخصت دی کیونکہ وہ حائضہ عورت سے ساقط ہے۔
(2)
واضح رہے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن حضرت عائشہ ؓ سے بیان کرنے میں متفرد نہیں ہیں بلکہ حضرت عروہ، قاسم اور حضرت اسود نے بھی حضرت عائشہ ؓ سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔
قاسم کی روایت کو امام مسلم نے اور عروہ و اسود کی روایات کو امام بخاری ؒ نے اپنی متصل اسانید سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 717/3)
(وحیدی)
بہرحال اس صورت میں ہر دو احادیث میں تطبیق ہوجاتی ہے، احادیث صحیحہ مختلفہ میں بایں صورت تطبیق دنیا ہی مناسب ہے نہ کہ ان کو رد کرنے کی کوشش کرنا جیسا کہ آج کل منکرین احادیث دستور سے اپنی ناقص عقل کے تحت احادیث کو پرکھنا چاہتے ہیں، ان کی عقلوں پر خدا کی مار ہو کہ یہ کلام رسول ﷺ کی گہرائیوں کوسمجھنے سے اپنے کوقاصر پاکر ضلالت و غوایت کا یہ خطرناک راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس شک و شبہ کے لیے ایک ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے کہ احادیث صحیحہ کا انکار کرنا، قرآن مجید کا انکار کرنا ہے، بلکہ اسلام اور اس جامع شریعت کا انکار کرنا ہے، اس حقیقت کے بعد منکرین حدیث کو اگر دائرہ اسلام اور ز مرہ اہل ایمان سے قطعاً خارج قرار دیا جائے تو یہ فیصلہ عین حق بجانب ہے۔
واللہ علی مانقول وکیل۔
(1)
مطلب یہ ہے کہ طاعات میں مال خرچ کرنا فضیلت کا باعث ہے، اسی طرح خواہشات نفس کا قلع قمع کر کے مشقت اٹھانا بھی اللہ کے ہاں زیادہ اجروثواب کا باعث ہے لیکن یہ قاعدہ کلی نہیں بلکہ اکثری ہے کیونکہ کبھی بعض عوارض کی وجہ سے تھوڑی سی عبادت زیادہ ثواب کا موجب بن جاتی ہے، مثلا: شب قدر کی عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے افضل ہے اور ایسا زمان کی وجہ سے ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نماز کے برابر ہے اور یہ برتری مکان کی برکت سے ہے۔
(2)
واضح رہے کہ خرچ اور مشقت بھی وہ معتبر ہے جس کی شریعت مذمت نہ کرے، بے جا مال خرچ کرنا یا خواہ مخواہ خود کو مشقت میں ڈالنا شریعت میں قطعا محمود نہیں۔
(3)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو عمرہ قریب ترین میقات سے ہو گا وہ اجروثواب میں کمی کا باعث ہے، غالبا رسول اللہ ﷺ نےجعرانه سے عمرے کا احرام باندھا تھا جو مکہ مکرمہ کے اعتبار سے سب سے دور والا میقات ہے۔
(فتح الباري: 771/3)
واللہ أعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ میں نفاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ " وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2911]
فوائد و مسائل:
(1)
مقام شجرہ سے مراد ذوالحليفه ہے جو اہل مدینہ کا میقات ہے اس جگہ کو الشجره کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت وہاں پر ایک درخت تھا۔
حضرت اسماءبنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں اس مقام پر حضرت محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تھی۔
(2)
حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ صغار صحابہ میں سے ہیں۔
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کے بطن سے پیدا ہونے والا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیٹا حضرت اسماء کے، جناب علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنے کے بعد انھی کے زیر تربیت اور زیر پرورش رہا، بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انھیں مصر کا والی بھی بنایا تھا۔
(3)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ ام المومینین حضرت میمونہ بنت حارث کی مادری بہن ہیں۔
پہلے یہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں۔
ان کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا۔
(4)
حیض ونفاس والی عورت بھی میقات سے احرام باندھے گی۔
نیز احرام کے موقع پر حیض اور نفاس والی عورت کو بھی غسل کرنا چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا " اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2963]
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے اعمال بنیادی طور پر مختلف مقامات پر (منی مزدلفہ عرفات میں)
ٹھرنے اور ذکر و دعا پر مشتمل ہیں اور حیض و نفاس ان میں رکاوٹ نہیں۔
(2)
طواف کعبہ میں حیض اور نفاس رکاوٹ بنتا ہے۔
لیکن ان میں وقت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
(3)
اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں انسانی ضرورتوں اور کمزوریوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔
(4)
قربانی میں جتنے زیادہ جانور ممکن ہوں قربان کرنا جائز ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی قربانی دی تھی۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو ہم نے کہا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «عقرى حلقى» ! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا "، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ دسویں کو طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تب تو پھر ہمیں رکنے کی ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ وہ روانہ ہو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3073]
فوائد و مسائل:
(1)
طواف افاضہ حج کا رکن ہے جو دس ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔
(2)
اگر کوئی عورت حیض کی وجہ سے طواف افاضہ دس ذوالحجہ کو نہ کرسکےتو جب پاک ہو تب کرلے۔
(3)
جس عورت نے طواف افاضہ کرلیا ہو۔
وہ اگر مکہ سے واپسی کے دن حیض سے ہو تواسے طواف وداع معاف ہے۔
(4)
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا: ’’بانجھ ہو! سر مونڈا جائے۔
!‘‘ بد دعا کے طور پر نہیں بلکہ عربوں کے عام محاورے کے مطابق پریشانی کا اظہار ہے۔
1۔
ذوالحجہ کی دس تاریخ کوحاجیوں کے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا ضروری ہے۔
اسے طواف ِزیارت، طواف صدر اور طواف افاضہ کہتے ہیں۔
جب تک یہ طواف نہیں ہوگا حج مکمل نہیں ہوگا۔
حیض ونفاس اس کی معافی کا سبب نہیں بن سکتے۔
2۔
ایک طواف وداع ہے جو حج سے فراغت کے بعد کیا جاتا ہے۔
باہرسے آنے والے کے لیے واجب ہے۔
حائضہ عورت کو طواف زیارت کے لیے ٹھہرنا پڑے گا لیکن طواف وداع کے لیے ٹھہرنے کی ضرورت نہیں، چنانچہ جب حضرت صفیہ ؓ کوحیض آیا تو نبی کریم ﷺ کا خیال تھا کہ شاید انھوں نے طواف افاضہ نہیں کیا جس پر آپ نے گھبراہٹ کا اظہار فرمایا۔
جب معلوم ہوا کہ وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں توآپ نے روانگی کا حکم دیا۔
چونکہ اس حدیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
«. . . عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً، فَقَالَ لَهَا:" عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي إِذًا . . .»
". . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع میں) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا (فرمایا راوی کو شک تھا) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔" [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ: 5329]
باب اور حدیث میں مناسبت:
بظاہر ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت معلوم نہیں ہوتی کیوں کہ باب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کیا گیا ہے کہ عورتوں کے لئے جائز نہیں کہ اللہ نے جو ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے وہ اسے چھپائیں جبکہ تحت الباب رحم کے مطابق کوئی الفاظ حدیث میں موجود نہیں ہیں۔
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ تحت الباب جو حدیث پیش کی ہے اس پر غور کرنے سے مناسبت کا پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا قول ان کے حائضہ ہونے کے بارے میں قبول فرمایا تو اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ خاوند کے مقابلے میں بھی رجعت، سقوط عدت اور حمل وغیرہ کے مسائل میں عورت کی بات کو قبول کیا جائے گا، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «والمقصود من الاية أن أمر العدة لما دار على الحيض والطهر، والاطلاع على ذلك يقع من جهة النساء غالباً، جعلت المرأة مؤتمنة على ذالك، قال اسماعيل القاضي دلت الاية أن المرأة المعتدة مؤتمنة على رحمها من الحمل والحيض الا ان تاتي من ذالك لما يعرف كذبها فيه، وقد أخرج الحاكم فى "المستدرك" من حديث ابي بن كعب أن من الامانة ان ائتمنت المراة على فرجها .» [فتح الباري لابن حجر: 412/9]
"آیت مبارکہ سے مقصود یہ ہے کہ عد ت کا معاملہ جب حیض اور طہر پر مبنی ہے اور اس کی اطلاع عورتوں کی جانب سے ہی میسر آتی ہے تو عورت کو (اس خبر پر) امین بنایا گیا ہے، اسماعیل قاضی کا کہنا ہے کہ آیت اسی امر پر دلالت کرتی ہے کہ عدت والی خاتون حمل اور حیض کے ضمن میں امین ہے۔، (یعنی اس کی بات کو قبول کیا جا ئے گا) سوائے اس کے کہ وہ صریحاً جھوٹ کا ارتکاب کرے جو واضح ہو جائے، امام حاکم رحمہ اللہ کی "المستدرک" میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امانت میں سے (یہ بھی) ہے کہ عورت اپنی شرم گاہ کے بارے میں امین ہو۔"
علامہ ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لما رتب النبى صلى الله عليه وسلم على مجرد قول صفية انها حائض تاخيره السفر أخذ منه تعدي الحكم الي الزوج، فتصدق المرأة فى الحيض والحمل باعتبار رجعة الزوج وسقوطها والحاق الحمل به .» [فتح الباري لابن حجر: 412/10]
"جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر کہ وہ حیض سے ہیں تاخیر سفر کا ارادہ فرما لیا تو اس سے تعدی الحکم الی الزوج بھی ماخوذ ہو گا تو حیض ہو یا حمل اس میں شوہر کے رجوع کے اعتبار سے خاتون کے دعووں کی تصدیق کرنا ہو گی، بعین اسی طرح سے سقوط کا معاملہ ہو یا حمل کا اس کے ساتھ الحاق کا اس میں بھی اس کی بات کا اعتبار ہو گا۔"
صحیح بخاری بحاشیۃ السھارنفوری میں لکھا ہے کہ: «كئية اي خزينة وهذا موضع الترجمة اذا يفهم منه أظهرت حيضها .» [صحيح بخاري بحاشية السهارنفوري: 761/10]
بدر الدین بن جماعہ رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "عورت کے قول پر استنباط ہو گا حیض اور حمل کے مسائل پر، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجرد صفیہ رضی اللہ عنہا کے قول پر سفر میں تاخیر فرمائی تھی، پس یہ اس بات پر دلالت ہے کہ یقیناًً عورت کی بات عدت حیض اور حمل میں معتبر ہوگی۔"
لہٰذا ان تمام تفصیلات سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت یوں بنتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے بارے میں صفیہ رضی اللہ عنہا کی بات پر سفر میں تاخیر فرمائی، جب حیض کے میں عورت کا قول معتبر ٹھہرا تو یقیناًً حمل، اسقاط اور عدت کے بارے میں بھی اس کے قول کو معتبر ٹھہرایا جائے گا، پس یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
''عقریٰ'' یعنی اللہ تجھ کو زخمی کرے۔
حلقیٰ تیرے حلق میں زخم ہو۔
اس حدیث کی مطابقت باب سے یوں ہے کہ آپ نے صرف صفیہ رضی اللہ عنہا کا قول ان کے حائضہ ہونے کے بارے میں تسلیم فرمایا تو معلوم ہوا کہ خاوند کے مقابلہ میں بھی یعنی رجعت اور سقوط رجعت اورعدت گزر جانے وغیرہ ان امور میں عورت کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔
(1)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے بارے میں صفیہ رضی اللہ عنہا کی بات کو تسلیم کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو باتیں عورتوں سے متعلقہ ہیں وہ صرف ان کے کہنے سے مان لی جائیں گی، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے صحیح صحیح بات بتانی چاہیے۔
(2)
بہرحال عدت کا دار و مدار حیض اور طہر پر ہے، اس سلسلے میں عورتوں کی بات کا اعتبار کیا جائے گا الا یہ کہ قرائن سے ان کا جھوٹ ظاہر ہو جائے۔
(فتح الباري: 596/9)
امام مالک اور ابن ماجہ اور ترمذی نے عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا کیا دستور تھا؟ انہوں نے کہا آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکرا قربانی کرتا اور کھاتا اور کھلاتا پھر لوگوں نے فخر کی راہ سے وہ عمل شروع کر دیا جو تم دیکھتے ہو جو خلاف سنت ہے۔
(1)
اہل کوفہ کا موقف ہے کہ مقیم آزاد آدمی ہی اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے، مسافر خود یا اس کی طرف سے قربانی نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح بعض حضرات کے خیال کے مطابق عورتوں پر قربانی نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان تمام حضرات کی تردید کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ مسافر خود بھی قربانی کر سکتا ہے اور اس کی طرف سے بھی قربانی ہو سکتی ہے، اسی طرح عورت بھی قربانی کر سکتی ہے اور اس کی طرف سے قربانی کرنا بھی جائز ہے، چنانچہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسافر تھے اور آپ نے قربانی کی اور ایک گائے ازواج مطہرات کی طرف سے بطور قربانی ذبح کی۔
(2)
امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کی طرف سے قربانی ان کی اجازت سے دی تھی (شرح مسلم للنووي: 206/8، تحت رقم الحدیث: 2918 (1211)
لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔
اگر ان سے اجازت لی ہوتی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گوشت کے متعلق نہ پوچھتیں کہ یہ کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ واللہ أعلم
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ان ازواج کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا مشترکہ طور پر ایک گائے ذبح کی تھی۔
(سنن ابن ماجة، الأضاحي، حدیث: 3133) (2)
اس حدیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ کوئی بھی دوسرا آدمی قربانی کا جانور ذبح کر سکتا ہے جبکہ قربانی کرنے والا خود اچھی طرح ذبح نہ کر سکتا ہو، بہرحال اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی دوسرا ذبح کرے یا ذبح کرنے میں قربانی کرنے والے کا ہاتھ بٹائے۔
واللہ أعلم
طواف افاضہ دس ذی الحجہ کو اور طواف وداع مکہ سے واپسی کے دن ہوتا ہے۔
پہلی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے تربت يمينك ’’تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں‘‘ اور دوسری حدیث میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے عقرى حلقی، یعنی کاٹی مونڈی کے الفاظ استعمال کیے، ان الفاظ کے اصل معنی مقصود نہیں بلکہ عربوں کے ہاں اظہار تعجب کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد گرامی ہے جو امت کے لیے بہت امید افزا ہے: ’’اے اللہ! میں نے تجھ سے ایک عہد لیا ہے جس کا تو خلاف نہیں کرے گا، آخر میں بھی ایک انسان ہوں، میں نے مومن کو کوئی اذیت پہنچائی ہو، میں نے اسے برا بھلا کہا ہو، لعن و طعن کی ہو، اسے مارا ہو تو اسے اس کے لیے باعث طہارت و رحمت اور قربت کا ذریعہ بنا دے اور قیامت کے دن تو اس وجہ سے اسے اپنا مقرب بنا لے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6619(2601)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: " کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟ " میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا۔" [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 349]
ان کے مابین تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابتدا تو حضرت حوا علیہاالسلام ہی سے ہوئی مگر بنی اسرائیل کے دور میں کچھ اضافہ کر دیا گیا اور یہ کوئی بعید نہیں۔ واللہ أعلم۔
➋ «أَنَفِسْتِ» اس جملے میں نفاس سے حیض مراد ہے۔ تشبیہا نفاس کہا گیا۔ باب کا دوسرا جزو یہاں سے ثابت ہوا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو "، چنانچہ میں نے (ایسا ہی) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا (وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور) میں نے عمرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے " (جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا)۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 243]
➋ حیض کی حالت میں چونکہ بیت اللہ میں داخلہ منع ہے، لہٰذا حائضہ عورت کو طواف منع ہے اور سعی چونکہ طواف کے تابع ہے، اس لیے وہ بھی منع ہے۔
➌ تنعیم مکہ سے مدینہ منورہ کے راستے پر قریب ترین حل ہے، یعنی یہاں حرم ختم ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے یہ خصوصی حکم فرمایا کہ وہ تنعیمم سے احرام باندھ کر آجائیں اور عمرہ کر لیں کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حیض کی وجہ سے عمرہ رہ گیا تھا۔ یہ اجازت ہر شخص کے لیے نہیں ہے کہ وہ تنعیم سے احرام باندھ کر آ جائے اور عمرہ کر لے جیسا کہ آفاق سے جانے والے بہت سے حاجی ایسا کرتے ہیں اور بعض علماء اس کے جواز کا فتویٰ بھی دیتے ہیں۔ لیکن یہ جواز محل نظر ہے کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ دوبارہ عمرے کے لیے میقات پر جا کر وہاں سے احرام باندھ کر آنا ضروری ہے۔ یا پھر مذکورہ حدیث کے پیش نظر تنعیم سے احرام باندھنے کی یہ اجازت صرف ان خواتین کے لیے ہے جو مخصوص ایام کی وجہ سے عمرہ نہ کرسکی ہوں۔ واللہ أعلم۔
➍ چونکہ حج کا احرام کئی دن جاری رہتا ہے، لہٰذا مینڈھیاں کھول کر اچھی طرح غسل کرنے کا حکم دیا تاکہ بعد میں تنگی نہ ہو۔ اس غسل کا حیض سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ صفائی کے لیے ہوتا ہے اور یہ ہر محرم کے لیے مستحب ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمیں صرف حج کرنا تھا، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا بات ہے؟ حائضہ ہو گئی ہو؟" میں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کر دیا ہے، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا"، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔" [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 291]
➊ چونکہ حیض کی حالت میں، عورت کے لیے مسجد میں ٹھہرنا منع ہے اور طواف مسجد میں ہوتا ہے، لہٰذا طواف سے روکا گیا ہے۔ سعی بھی طواف کے تابع ہے، وہ بھی منع ہے۔
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی عورتوں کی طرف سے گائے ذبح کرنا نفل ہو گا کیونکہ حج افراد کرنے والے پر قربانی فرض نہیں۔ ممکن ہے، بعض نے حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا ہو۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگ ہدی لے کر نہیں آئے تھے انہیں احرام کھول دینے کا حکم دیا تو جو ہدی نہیں لائے تھے حلال ہو گئے، آپ کی بیویاں بھی ہدی لے کر نہیں آئیں تھیں تو وہ بھی حلال ہو گئیں، تو مجھے حیض آ گیا (جس کی وجہ سے) میں بیت اللہ کا طو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2805]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟ " انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو پھر تو نکلو " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 391]
➋ حج کی ادائیگی کے بعد گھر کو واپسی سے قبل بھی طواف کرنا ضروری ہے، اسے طواف وداع کہا جاتا ہے، مگر جو عورت طواف افاضہ کر چکی ہو، اس کے بعد اس کو حیض شروع ہو جائے اور گھر واپسی کی تاریخ آ جائے تو وہ معذور ہے، بغیر طواف و داع کیے گھر واپس جا سکتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: " کیا تجھے حیض آ گیا ہے " میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: " یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2742]
(2) "جو دوسرے محرم کریں۔" دوسرے معنیٰ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو محرم کرتا ہے، وہ تو بھی کر۔
«. . . وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما جئنا سرف حضت فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: افعلي ما يفعل الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت حتى تطهري . . .»
". . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مقام سرف میں آئے تو مجھے ایام ماہواری شروع ہو گئے (میرے بتانے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مناسک حج تم بھی اسی طرح ادا کرو جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں البتہ طواف بیت اللہ ایام سے فارغ ہو کر نہا دھو کر کرنا . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 126]
«لَمَّا جِئْنَا» جب ہم آئے۔ یہ دراصل حجۃ الوداع کے سفر کا واقعہ ہے۔ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حالت احرام میں تھیں۔
«سَرِف» "سین" پر فتحہ اور "را" کے نیچے کسرہ ہے۔ اور یہ دو اسباب کی وجہ سے غیر منصرف ہے: ایک علمیت، یعنی جگہ کا نام اور دوسرا تانیث۔ مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ تقریباً دس میل کے فاصلے پر۔
«حِضْتُ» واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ مجھے ایام ماہواری شروع ہو گئے۔
فائدہ:
اس حدیث کی رو سے حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتی، اس لیے کہ اکثر علماء کے نزدیک طواف کے لیے پاکیزگی شرط ہے۔ حالت حیض میں عورت چونکہ ناپاک ہو جاتی ہے اور ناپاک عورت کا مسجد میں زیادہ دیر ٹھہرنا بھی جائز نہیں، خانہ کعبہ تو افضل المساجد ہے، اس لیے طواف بدرجہ اولیٰ نہیں کر سکتی بلکہ ایسی حالت میں تو وہ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی۔ علاوہ ازیں اب مسعٰی (سعی کرنے کی جگہ) بھی مسجد میں شامل ہو گئی ہے، اس لیے اب سعی بھی نہیں کر سکتی۔ اسی لیے مصنف (بلوغ المرام) نے اس حدیث کو اس بلوغ المرام کے باب «باب الحيض» میں ذکر کیا ہے۔
«. . . 223- وبه: أن ابن عمر خرج إلى مكة معتمرا فى الفتنة، فقال: إن صددت عن البيت صنعنا كما صنعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأهل بعمرة من أجل أن النبى صلى الله عليه وسلم كان أهل بعمرة عام الحديبية، ثم إن عبد الله بن عمر نظر فى أمره، فقال: ما أمرهما إلا واحد، فالتفت إلى أصحابه، فقال: ما أمرهما إلا واحد، أشهدكم أني قد أوجبت الحج مع العمرة، قال: ثم طاف طوافا واحدا، ورأى أن ذلك مجزئ عنه وأهدى. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتنے (جنگ) کے زمانے میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ کی طرف چلے تو فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم اس طرح کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے اس وجہ سے عمرے کی لبیک کہی کہ حدبیبہ والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کی لبیک کہی تھی، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے مسئلے میں غور کیا تو فرمایا: دونوں (عمر ے اور حج) کا تو ایک ہی حکم ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ اپنے آپ پر حج لازم کر لیا ہے، پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور یہ سمجھے کہ یہ کافی ہے اور قربانی کی . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 303]
تفقه:
➊ عمرے کی نیت کرنے والا بعد میں عمرے اور حج دونوں یعنی حجِ قِران کی نیت کرلے تو جائز ہے۔
➋ اگر راستہ خطرناک ہو تو بھی حج اور عمرے کے لئے بیت اللہ کا سفر کرنا جائز ہے۔
➌ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں عمرہ یا حج کرنے کی نیت سے مکہ آئے اور کسی عذر کی وجہ سے حرم سے روک دیا جائے تو وہ احرام کھولے اور ایک بکری ذبح کرکے فدیہ دے۔ بعد میں اسے اس عمرے یا حج کی قضا ادا کرنا ہوگی۔ واللہ اعلم
➍ تمام امور میں طریقۂ نبوی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔
➎ مسائل میں خوب غور وخوض کے بعد فتویٰ دینا چاہئے۔
➏ اگر کسی مسئلے میں تحقیق بدل جائے تو سابقہ بات سے رجوع کرکے نئی تحقیق پر عمل کرنا چاہئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے۔ ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں حج کے لیے لبیک پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کے لیے تلبیہ پکارا۔ پھر جنہوں عمرہ کے لیے لبیک کہا تھا وہ حلال ہو گئے اور جنہوں نے حج کے لیے لبیک کہا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا وہ حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ قربانی کا دن آیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 592]
«بَابُ وُجْوهِ الْاِحْرَامِ وَصِفَتِهِ» «الوجوه» ، «وجه» کی جمع ہے۔ اور اس سے اقسام احرام مراد ہیں۔ اور وہ تین ہیں، یعنی صرف حج یا محض عمرہ یا دونوں کا احرام باندھنا۔ «صفته» سے مراد محرم کی وہ کیفیت ہے جسے وہ حالت احرام میں اختیار کرتا ہے۔
«خَرَجْنَا» ہم نکلے۔ حج کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں یہ نکلنا ہفتے کے روز نماز ظہر کے بعد تھا جبکہ ذی القعدہ کے پانچ دن ابھی باقی تھے۔
«عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ» حجتہ الوداع، دس ہجری میں ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد اس کے علاوہ اور کوئی حج نہیں کیا۔ اور اسے حجۃ الوداع اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو الوداع کہا تھا۔
«أهَلَّ بِعُمْرَةِ» یعنی صرف عمرے کا احرام باندھا، ایسے شخص کو «متمتع» کہتے ہیں۔
«أهَلَّ بِحَجَّ وَ عُمْرَةِ» حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔ ایسے شخص کو «قارن» کہتے ہیں۔ اور جس نے صرف حج کے لیے احرام باندھا ہو اسے «مفرد» کہتے ہیں۔
«اَلْاِهْلَال» ، آواز بلند کرنے کو کہتے ہیں اور اس سے مراد احرام باندھنے کے وقت بلند آواز سے تلبیہ کہنا ہے۔
«فَحَلَّ» یعنی وہ حلال ہو گیا۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کے مابین سعی کرنے کے بعد سر کے بال منڈوائے جاتے ہیں یا کٹوائے جاتے ہیں اور احرام کھول دیا جاتا ہے۔
«يَوْمُ النَّحْرِ» «نحر» ، یعنی قربانی کا دن اور وہ دس ذوالحجہ ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنہا حج کا احرام باندھا تھا، یعنی حج مفرد کیا تھا۔ لیکن دوسرے بہت سے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ قارن تھے اور حج و عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔ اور یہی بات صحیح ہے تاہم اقسام حج میں سے کون سی قسم افضل ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اور جو شخص "مفرد" ہوتا ہے وہ صرف قربانی کے دن ہی حلال ہوتا ہے، پھر یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم کی ان روایات کے بھی مخالف ہے جن میں ہے کہ آپ نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کے پاس ہدی، یعنی قربانی نہ تھی، انہیں فرمایا تھا کہ تم حج کو عمرہ بنا لو۔ عمرے کو مکمل کر کے حج کا احرام مکہ سے باندھ لو، اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت دراصل صرف ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے جن کے پاس قربانی تھی۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کی تین قسمیں ہیں، حج قران، حج تمتع، اور حج افراد۔ ان تینوں میں سے افضل کون سا حج ہے؟ اس کی بابت اختلاف ہے، بعض حج قران کو افضل دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہی حج پسند کیا۔ اس میں مشقت بھی زیادہ اٹھانی پڑتی ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں اس پر نفیس بحث کی ہے۔ بعض حج تمتع کو افضل کہتے ہیں کہ اس میں سہولت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرحلے پر اس کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا۔ اور بعض حضرات حج افراد کو افضل قرار دیتے ہیں مگر دلائل کے اعتبار سے راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ حج تمتع ہی افضل ہے۔ «والله اعلم»
حالت حیض میں بیت اللہ کا طواف منع ہے۔ طواف الوداع واجب ہے لیکن حائضہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔
حج قران کے ذمہ صرف ایک ہی سعی ہونے کی کئی ایک دلیلیں ہیں جن میں سے کچھ ذیل میں دی جاتی ہیں: ① نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قرآن کیا اور طواف قدوم کے بعد صفا مروہ کے مابین صرف ایک ہی سعی کی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفا مروہ کے مابین ایک ہی سعی کی۔ صحیح مسلم (1215)
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام نے ایک ہی سعی کی) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ میں سے جو حج قران کرنے والے صحابہ تھے انہوں نے صفا مروہ کے مابین صرف ایک ہی سعی کی، اور جو حج تمتع کرنے والے تھے انہوں نے دو بار سعی کی ایک سعی عمرہ کے لیے اور دوسری سعی یوم النحر (عید کے دن) اپنے حج کے لیے۔
اس حدیث میں واضح طور پر امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کی دلیل پائی جاتی ہے کہ حج قران کرنے والے پر صرف ایک ہی طواف افاضہ اور ایک ہی سعی ہے۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: جنھوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا (اور وہ حج تمتع کرنے والے تھے) انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے مابین سعی کی اور پھر احرام کھول دیا اور جب منیٰ سے واپس آئے تو پھر ایک اور طواف کیا اور جنھوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا (اور حج قران کر نے والے ہیں) انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا تھا۔ (صحیح بخاری (1556) صحیح مسلم (1211)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج قران کر رہی تھیں رسول اللہ سلم نے نے انھیں فرمایا: (تیرا بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرنا تیرے حج اور عمرے کے لیے کافی ہے) سـنـن ابی داود (1897) علامہ البانی اللہ نے سلسۃ الصحيحة (1984) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ نیز دیکھیں شرح حدیث 205۔