سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْعُمْرَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ باب: ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمْ يَعْتَمِرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً ، إِلَّا فِي ذِي الْقَعْدَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2997]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2997]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب زمانہ جاہلیت میں ذوالقعدہ میں عمرہ کرنا گناہ سمجھتے تھے۔
اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بار بار ذوالقعدہ میں عمرہ کیا تاکہ لوگوں کے ذہنوں سے دور جاہلیت کا اثر اچھی طرح ختم ہوجائے۔
(2)
رسول اللہﷺ نے آخری حج کے ساتھ جو عمرہ ادا فرمایا وہ بروز اتوار 4 ذی الحجہ 10ھ کو ادا فرمایا۔ (الرحيق المختوم، صفي الرحمن مبارك پوری رحمۃ اللہ علیہ ص: 615)
اسے ذوالقعدہ میں اس لیے شمار کرلیا گیا کہ مدینہ منورہ سے رسول اللہ ﷺ ذوالقعدہ کے مہینے میں روانہ ہوئے تھے جب کہ اس مہینے کے چار دن باقی تھی۔ (الرحیق المختوم ص: 614)
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب زمانہ جاہلیت میں ذوالقعدہ میں عمرہ کرنا گناہ سمجھتے تھے۔
اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بار بار ذوالقعدہ میں عمرہ کیا تاکہ لوگوں کے ذہنوں سے دور جاہلیت کا اثر اچھی طرح ختم ہوجائے۔
(2)
رسول اللہﷺ نے آخری حج کے ساتھ جو عمرہ ادا فرمایا وہ بروز اتوار 4 ذی الحجہ 10ھ کو ادا فرمایا۔ (الرحيق المختوم، صفي الرحمن مبارك پوری رحمۃ اللہ علیہ ص: 615)
اسے ذوالقعدہ میں اس لیے شمار کرلیا گیا کہ مدینہ منورہ سے رسول اللہ ﷺ ذوالقعدہ کے مہینے میں روانہ ہوئے تھے جب کہ اس مہینے کے چار دن باقی تھی۔ (الرحیق المختوم ص: 614)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2997 سے ماخوذ ہے۔