حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ فَسْخَ الْحَجِّ فِي الْعُمْرَةِ لَنَا خَاصَّةً ، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نہیں ) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحج 25 ( 1808 ) ، سنن النسائی/الحج 77 ( 2810 ) ، ( تحفة الأشراف : 2027 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/469 ) ، سنن الدارمی/المناسک 37 ( 1897 ) ( ضعیف ) » ( حارث لین الحدیث ہیں ، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے ، اس لیے منکر ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : 1586 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2810 | سنن ابي داود: 1808

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2810 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔`
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
اردو حاشہ: یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لہٰذا حجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ موقف درست ہے جو سابقہ صحیح احادیث: 2808، 2809 میں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2810 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1808 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔`
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1808]
1808. اردو حاشیہ: یہ حدیث ضعیف ہے،اس لئے قابل استدلال نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1808 سے ماخوذ ہے۔