حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ " ، قَالَتْ : فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَأَحْلَلْتُ ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ، وَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : قُومِي عَنِّي ، فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) ہو ، وہ اپنے احرام پر قائم رہے ، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے “ اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا ، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا ، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا ، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا : میرے پاس سے چلی جاؤ ، میں نے کہا : کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی ؟ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 29 ( 1236 ) ، سنن النسائی/الحج 186 ( 2995 ) ، ( تحفة الأشراف : 15739 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/351 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1236 | سنن نسائي: 2995

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2995 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عمرہ کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟`
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے (یعنی احرام کھول دے) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے ، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2995]
اردو حاشہ: دور ہو کر بیٹھو کیونکہ احرام کے دوران میں صرف جماع ہی حرام نہیں بلکہ مقدمات جماع، مثلاً: شہوت سے ہاتھ لگانا اور بوسہ وغیرہ لینا بھی منع ہے۔ خوشبو وغیرہ کی موجودگی میں میلان طبعی چیز ہے، اس لیے دور رہنے کا حکم دیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2995 سے ماخوذ ہے۔