سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : دُخُولِ مَكَّةَ باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2941]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2941]
اردو حاشہ:
فائدہ: رسول اللہﷺرات کو ذی طوی کے مقام پر ٹھرے تھے۔
صبح کے وقت مکہ شریف میں داخل ہوئے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب دخول مكة نهاراً أو ليلاً، حديث: 1574)
فائدہ: رسول اللہﷺرات کو ذی طوی کے مقام پر ٹھرے تھے۔
صبح کے وقت مکہ شریف میں داخل ہوئے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب دخول مكة نهاراً أو ليلاً، حديث: 1574)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2941 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 854 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا مکہ میں دن کے وقت داخل ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 854]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 854]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوا جائے مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبداللہ العمری‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے صحیح ابی داؤد: 1629، وسنن ابی داؤد: 1865)
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوا جائے مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبداللہ العمری‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے صحیح ابی داؤد: 1629، وسنن ابی داؤد: 1865)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 854 سے ماخوذ ہے۔