سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْفِطْرَةِ باب: امور فطرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنَ الْفِطْرَةِ ، الْمَضْمَضَةُ ، وَالِاسْتِنْشَاقُ ، وَالسِّوَاكُ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَالِانْتِضَاحُ ، وَالِاخْتِتَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کلی کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا ، مسواک کرنا ، مونچھ کاٹنا ، ناخن کاٹنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا ، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا ، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا ، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امور فطرت کا بیان۔`
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294]
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 294]
اردو حاشہ:
چھینٹے مارنا یعنی وضو کے بعد ازار پر پانی کے چھینٹے ڈالنا۔
اس کی حکمت بظاہر عدم طهارت کے وسوسے کا ازالہ ہے۔
واللہ أعلم-
یہ روایت صحیح روایات کے ہم معنی ہے اس لیے محققین نے اسے حسن یا صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحديثية: 3؍268)
چھینٹے مارنا یعنی وضو کے بعد ازار پر پانی کے چھینٹے ڈالنا۔
اس کی حکمت بظاہر عدم طهارت کے وسوسے کا ازالہ ہے۔
واللہ أعلم-
یہ روایت صحیح روایات کے ہم معنی ہے اس لیے محققین نے اسے حسن یا صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحديثية: 3؍268)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 294 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 54 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باب: مسواک دین فطرت ہے۔`
«. . . عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ . . .»
". . . عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَةِ: 54]
«. . . عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ . . .»
". . . عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/باب السِّوَاكِ مِنَ الْفِطْرَةِ: 54]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث [54] ضعیف ہے، تاہم حدیث سنن ابی داود حدیث [52] اسی مفہوم کی حامل ہے۔ اسی لیے بعض کے نزدیک یہ صحیح ہے۔
یہ حدیث [54] ضعیف ہے، تاہم حدیث سنن ابی داود حدیث [52] اسی مفہوم کی حامل ہے۔ اسی لیے بعض کے نزدیک یہ صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 54 سے ماخوذ ہے۔