حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ ، أَوْ زَعْفَرَانٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2930
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/اللباس37 ( 5852 ) ، صحیح مسلم/الحج 1 ( 1177 ) ، ( تحفة الأشراف : 7226 ) ، ( أنظر ما قبلہ ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5847 | سنن نسائي: 2667

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محرم کے لباس کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس (خوشبودار گھاس) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2930]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے۔

(2)
سلے ہوئے سے مراد وہ کپڑا ہے جوسی کر جسم کے مطابق بنایا گیا ہو مثلاً: قمیص شلوار، بنیان، سویٹر وغیرہ۔
اگر ان سلی چادر چھوٹی ہو اور اس کے ساتھ ویسا ہی ٹکڑا سی لیا جائے تاکہ جسم کی ضرورت کے مطابق بڑی چادر بن جائے تو اسے سلا ہوا کپڑا شمار نہیں کیا جاتا ہے۔

(3)
برنس اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سر کو چھپانے والی چیز بھی ہو۔
جیسے برساتی کوٹ میں ہوتا ہے۔

(4)
پگڑی اگرچہ سلا ہوا کپڑا نہیں تاہم مرد کے لیے اس کا استعمال بھی ممنوع ہے لہٰذا ٹوپی کا استعمال بالاولی منع ہوا۔

(5)
سر پر گھٹڑی وغیرہ اٹھانا پہننا نہیں کہلاتا لہٰذا وہ منع نہیں ہوگا۔

(6)
  ورس ایک پودا ہے۔
نواب وحیدالزمان خان نے اس کا ترجمہ سنگا کی ڈنڈیاں کیا ہے۔
اس سے کپڑا رنگا جاتا ہے۔
زعفران اور ورس سے رنگے ہوئےکپڑوں میں خوشبو پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لیے احرام میں ایسے کپڑے کا پہننا منع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2930 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5847 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5847. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے محرم کو ورس اور زعفران سے رنگا ہوا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5847]
حدیث حاشیہ: ورس ایک خوشبو دار رنگین گھاس ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5847 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5847 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5847. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے محرم کو ورس اور زعفران سے رنگا ہوا لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5847]
حدیث حاشیہ:
محرم کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر محرم کے لیے ورس اور زعفران سے رنگا ہوا لباس پہننا جائز ہے، چنانچہ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ غیر محرم کے لیے زعفرانی لباس جائز ہے اگرچہ امام شافعی رحمہ اللہ اور اہل کوفہ مطلق طور پر زعفرانی کپڑے کی اجازت نہیں دیتے۔
(فتح الباري: 376/10)
لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
وہ اپنی داڑھی کو زعفران سے رنگتے تھے حتی کہ ان کے کپڑے بھی اس رنگ سے بھر جاتے تھے۔
جب ان سے سوال ہوا تو فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ اسی رنگ سے رنگتے تھے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ رنگ بہت محبوب تھا، وہ اپنے تمام کپڑے حتی کہ پگڑی بھی اس سے رنگتے تھے۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4064)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5847 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2667 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´احرام میں ورس اور زعفران میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ محرم زعفران اور ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2667]
اردو حاشہ: محرم کے لیے خوشبو کا استعمال ممنوع ہے، زعفران بھی خوشبو ہے، لہٰذا اس سے رنگے ہوئے کپڑے بھی ممنوع ہیں لیکن یہ حکم بحالت احرام ہے۔ احرام سے قبل خوشبو لگائی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں اس کے اثرات ختم نہ بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ ورس ایک خوشبو دار گھاس ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محرم رنگین احرام پہن سکتا ہے۔ ویسے احرام کے لیے سادہ اور سفید کپڑے ہی زیادہ مناسب ہیں، البتہ عورت ہر رنگ کے کپڑے پہن سکتی ہے زعفران اور ورس سے نہ رنگے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2667 سے ماخوذ ہے۔