سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الظِّلاَلِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ ، يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم ( احرام باندھنے والا ) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے ( دھوپ میں ) لبیک کہتا رہے ، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا ، اور وہ ایسا ( بےگناہ ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2925]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت محققین کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے سایہ ہوتے ہوئے محض اپنے آپ کو تکلیف دینے کے لیے دھوپ میں ٹھرے رہنا کوئی نیکی نہیں۔
ایک صحابہ نے دھوپ میں کھڑا رہنے خاموش رہنے اور روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے روزہ پورا کرنے کی اجازت دی کھڑے رہنے اور سائے سے پرہیز کرنے کی اجازت نہ دی۔ (صحيح البخاري، الايمان والنذور، باب النذر فيما لا يملك و في معصية، حديث: 6704)
مطلب یہ ہے کہ دھوپ کے بجائے سائے میں ہوجانا احرام کے منافی عمل نہیں۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت محققین کے نزدیک ضعیف ہے، اس لیے سایہ ہوتے ہوئے محض اپنے آپ کو تکلیف دینے کے لیے دھوپ میں ٹھرے رہنا کوئی نیکی نہیں۔
ایک صحابہ نے دھوپ میں کھڑا رہنے خاموش رہنے اور روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے روزہ پورا کرنے کی اجازت دی کھڑے رہنے اور سائے سے پرہیز کرنے کی اجازت نہ دی۔ (صحيح البخاري، الايمان والنذور، باب النذر فيما لا يملك و في معصية، حديث: 6704)
مطلب یہ ہے کہ دھوپ کے بجائے سائے میں ہوجانا احرام کے منافی عمل نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2925 سے ماخوذ ہے۔