سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ باب: بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : الْعَجُّ وَالثَّجُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : سب سے بہتر عمل کون سا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عج» اور «ثج» “ ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا ، اور خون بہانا ( یعنی قربانی کرنا ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 827 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان۔`
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 827]
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 827]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی قربانی کی گئی ہو۔
1؎:
یعنی قربانی کی گئی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 827 سے ماخوذ ہے۔