حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ ، فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے : اے محمد ! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں ، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، «شعار» کے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3750 ، و مصباح الزجاجة : 1031 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/192 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان۔`
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2923]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
لبیک بلند آواز سے پکارنا مسنون ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2923 سے ماخوذ ہے۔