حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي ، أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے،پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو «لبیک بحجۃ» کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو «لبیک عمرۃ» کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے «لبیک بحجۃ وعمرۃ» ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحج 27 ( 1814 ) ، سنن الترمذی/الحج 15 ( 829 ) ، سنن النسائی/الحج 55 ( 2754 ) ، ( تحفة الأشراف : 3788 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج 10 ( 34 ) ، مسند احمد ( 4/55 ، 56 ) ، سنن الدارمی/المناسک 14 ( 1850 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2754 | سنن ترمذي: 829 | سنن ابي داود: 1814 | بلوغ المرام: 594 | مسند الحميدي: 876

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2754 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا بیان۔`
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2754]
اردو حاشہ: ذکر اگرچہ آہستہ بہتر ہوتا ہے مگر جو ذکر شعار کا درجہ حاصل کر لے اور ہر کسی پر لازم ہو، اسے بلند آواز سے ادا کرنا افضل ہوتا ہے جیسے تکبیرات اور لبیک وغیرہ، تاکہ دوسروں کو بھی رغبت ہو اور جو شخص نہیں جانتا، وہ بھی سیکھ لے، نیز تلبیہ احرام کی خصوصی علامت ہے کیونکہ لباس تو کوئی بھی پہن سکتا ہے، لہٰذا تلبیہ بلند آواز سے کہا جائے تاکہ احرام کا اعلان ہو جیسے قربانی کے جانور (جو بیت اللہ کو بھیجے جائیں) کے گلے میں قلادہ ڈالنا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2754 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 829 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا بیان۔`
سائب بن خلاد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 829]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مردوں کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے ((أَصْحَابِي)) کی قید سے عورتیں خارج ہو گئیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز پست رکھیں۔
مگر وجوب کی دلیل بالصراحت کہیں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 829 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1814 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تلبیہ (لبیک کہنے) کا بیان۔`
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1814]
1814. اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جبرئیل ﷩ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وحی قرآن کے بغیر بھی حاضر ہواکرتے تھے اور اس وقت الحکمۃ کی وحی ہوتی لہٰذا حدیث رسول ﷺ بھی وحی «منزل من الله» اور واجب الاتباع ہے۔
➋ عام محدثین نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنے میں آواز اونچی رکھنامستحب ہے مگر عورتیں اس سےمستثنی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1814 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 594 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان`
خلاد بن سائب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جبرائیل امین میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ لبیک کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں۔ ‘‘ اسے پانچوں نے روایت کیا۔ امام ترمذی اور امام ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 594]
594 فائدہ:
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ کہنا چاہیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس قدر اونچی آواز سے تلبیہ کہتے کہ ان کا گلا بیٹھ جاتا۔ جمہور علمائے کرام کی یہی رائے ہے۔ مگر امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بلند آواز سے تلبیہ صرف مسجد منٰی اور مسجد حرام کے پاس کہنا چاہیے۔ [سبل السلام]


راوی حدیث:
حضرت خلَّاد رحمہ اللہ، خلاد کی خا پر زبر اور لام مشدد ہے۔ یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری خزرجی ہیں۔ تیسرے طبقے کے ثقہ تابعی ہیں جنہوں نے انہیں صحابی کہا انہیں وہم ہوا ہے۔
«أبيه» ان کے والد سائب رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے، بدر میں حاضر تھے، عہد معاویہ میں یمن کے گورنر بنے۔ بعض نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یمن کا عامل مقرر کیا اور 71 ھجری میں فوت ہوئے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 594 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 876 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
876- سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بولے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کویہ ہدایت کیجئے کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) سفیان کہتے ہیں: ابن جریج مجھ سے ایک حدیث چھپا کر رکھتے تھے۔ جب عبداللہ بن ابوبکر ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا جب وہ مدینہ منورہ چلے گئے تو میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا تو وہ مجھ سے بولے: اے عوف! کیا تم ہم سے احادیث چھپا کر رکھتے ہو۔ اور جب اس کے اہل (یعنی اس کے طلباء) رخصت ہوجائیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:876]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وحی قرآن کے بغیر بھی حاضر ہوا کرتے تھے اور اس وقت الحكمة کی وحی ہوتی، لہٰذا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی (منزل من الله) اور واجب الاتباع ہے۔
علماء نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنے میں آواز اونچی رکھنا مستحب ہے عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔ (سنن ابی داود دار السلام)۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 875 سے ماخوذ ہے۔