حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي ، إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ، مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَهُنَا ، وَهَهُنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے ، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت ، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں ، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الحج 14 ( 828 ) ، ( تحفة الأشراف : 4735 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 828

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´لبیک پکارنا۔`
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2921]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لبیک پکارنا بہت بڑی نیکی ہے۔

(2)
بے جان چیزیں بھی نیک و بد کی تمیز رکھتی ہیں اور نیکی کے کام میں شریک ہوتی ہیں لیکن ان تسبیحات اور اذکار جن وانس کے ادراک سے ماورا ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2921 سے ماخوذ ہے۔