سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَوَاقِيتِ أَهْلِ الآفَاقِ باب: مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ لِلْأُفُقِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا : ” اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے ( اور احرام باندھنے ) کا مقام ذو الحلیفہ ہے ، اہل شام کا جحفہ ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے ، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا : ” اے اللہ ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرق کی طرف کفر کا غلبہ تھا، اس وجہ سے وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے مشرق والوں کو مسلمان کر دیا، کروڑوں مسلمان ہندوستان میں گزرے جو مکہ سے مشرق کی جانب ہے، بعض کہتے ہیں کہ دوسری حدیث میں ہے کہ مشرق سے فتنہ نمودار ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ” اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: ” اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2915]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ” اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: ” اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2915]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحليفه کو آج کل بئرعلي یا آبارعلي کہتے ہیں۔
جحفه کا موجودہ نام رابغ ہے۔
يلملم کو السعديه کہتے ہیں۔
قرن منازل کو السيل کہتے ہیں۔
جبکہ ذات عرق کا موجودہ نام الضريبه ہے۔
میقات سے متعلق مزید تفصیلی معلومات کے لیے کتاب الحج کا ابتدائیہ دیکھیے۔
(2)
عراق کی آبادی اس وقت مسلمان ہی نہیں تھی لیکن ان کے لیے میقات مقرر کیا گیا کیونکہ مستقبل میں یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے والے تھے۔
(3)
نبی اکرم ﷺ نے اہل عراق کے لیے اسلام کے لیے دعا کی تاہم اس علاقے کے فتنوں سے بھی متنبہ فرمایا۔
یہ اس علاقے کے نیک لوگوں کے لیے باعث فخر اور مفسد اور گمراہ لوگوں کے لیے باعث عار ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ذوالحليفه کو آج کل بئرعلي یا آبارعلي کہتے ہیں۔
جحفه کا موجودہ نام رابغ ہے۔
يلملم کو السعديه کہتے ہیں۔
قرن منازل کو السيل کہتے ہیں۔
جبکہ ذات عرق کا موجودہ نام الضريبه ہے۔
میقات سے متعلق مزید تفصیلی معلومات کے لیے کتاب الحج کا ابتدائیہ دیکھیے۔
(2)
عراق کی آبادی اس وقت مسلمان ہی نہیں تھی لیکن ان کے لیے میقات مقرر کیا گیا کیونکہ مستقبل میں یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے والے تھے۔
(3)
نبی اکرم ﷺ نے اہل عراق کے لیے اسلام کے لیے دعا کی تاہم اس علاقے کے فتنوں سے بھی متنبہ فرمایا۔
یہ اس علاقے کے نیک لوگوں کے لیے باعث فخر اور مفسد اور گمراہ لوگوں کے لیے باعث عار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2915 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1183 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے سنا، ان سے احرام گاہ کے بارے میں پوچھا گیا، میرا گمان ہے جابر نے اس کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل مدینہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور اہل عراق کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور اہل نجد کے لیے احرام گاہ قرن منازل ہے اور اہل یمن کے لیے احرام گاہ یلملم ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2810]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: الطریق الاخر سے مراد بعض حضرات کے نزدیک یہ ہے کہ اہل مدینہ اگر دوسرے راستہ سے مکہ معظمہ جائیں تو وہ حجفہ سے احرام باندھ سکتے ہیں اور بعض شارحین کاخیال ہے اس سے مراد دوسرے رساتہ والے ہیں۔
یعنی اہل شام جن کا میقات حجفہ ہے جب کہ دوسری روایات میں گزر چکا ہے۔
نوٹ: ذات عرق کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ میقات اہل عراق کے لیے نبی اکرم ﷺ نےمقرر فرمایا ہے یا اس کی تعیین اہل عراق کے دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اجتہاد سے کی تھی، ائمہ دونوں طرف گئے ہیں۔
یعنی اہل شام جن کا میقات حجفہ ہے جب کہ دوسری روایات میں گزر چکا ہے۔
نوٹ: ذات عرق کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ میقات اہل عراق کے لیے نبی اکرم ﷺ نےمقرر فرمایا ہے یا اس کی تعیین اہل عراق کے دریافت کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اجتہاد سے کی تھی، ائمہ دونوں طرف گئے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1183 سے ماخوذ ہے۔