سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ تُهِلُّ بِالْحَجِّ باب: نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ : " أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ " .
´ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے ، ان کے ساتھ ( ان کی بیوی ) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں ، ان سے مقام شجرہ ( ذوالحلیفہ ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس کی اطلاع دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ ” وہ غسل کریں ، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں ، اور وہ تمام کام انجام دیں ، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ " وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2912]
فوائد و مسائل:
(1)
حیض ونفاس حج کی ادئیگی سے مانع نہیں۔
(2)
حیض ونفاس کی صورت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کعبہ شریف مسجد کے اندر واقع ہےاور حیض ونفاس کے دوران مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب وہ لوگ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو وہاں اسماء نے محمد بن ابوبکر کو جنا۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اسے حکم دیں کہ وہ غسل کر لیں پھر حج کا احرام با [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2665]
(2) حیض اور نفاس والی عورت حج کے تمام افعال بجا لا سکتی ہے مگر طواف نہیں کر سکتی۔ البتہ صفا مروہ کی سعی کی بابت اختلاف ہے۔ بعض علماء سعی کے جواز کا فتوی دیتے ہیں، تاہم احوط اور افضل یہی ہے کہ حائضہ اور نفاس والی عورت صفا مروہ کی سعی نہ کرے۔ واللہ أعلم