سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ وَلِيٍّ باب: عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے۔
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ ، قَالَ : فَارْجِعْ مَعَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے ، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” جاؤ اس کے ساتھ حج کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2900
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3061 | مسند الحميدي: 473
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” جاؤ اس کے ساتھ حج کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2900]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” جاؤ اس کے ساتھ حج کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2900]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں محرم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس عذر کی وجہ سے جہاد میں نہ جانےکی اجازت مل گئی۔
(2)
حج کے سفر میں اگر عورت کا کوئی محرم ساتھ جانے والا نہ ہو یا محرم موجود ہو لیکن وہ حج کا خرچ برداشت نہ کرسکتا ہو اور نہ عورت ہی اس کا خرچ برداشت کرسکتی ہوتو عورت پر حج فرض نہیں رہے گا کیونکہ استطاعت حاصل نہیں رہی۔
(3)
بعض علماء نے فرمایا اگر دوسری عورتیں اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ان کے قافلے کے ساتھ وہ عورت بھی جا سکتی ہے جس کا محرم نہیں یا اس کے محرم کو سفر حج کی طاقت نہیں کیونکہ اس صورت میں عورت کی عزت وعصمت کے لیے وہ خطرات بالعموم نہیں رہتے جن کے پیش نظر عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں محرم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس عذر کی وجہ سے جہاد میں نہ جانےکی اجازت مل گئی۔
(2)
حج کے سفر میں اگر عورت کا کوئی محرم ساتھ جانے والا نہ ہو یا محرم موجود ہو لیکن وہ حج کا خرچ برداشت نہ کرسکتا ہو اور نہ عورت ہی اس کا خرچ برداشت کرسکتی ہوتو عورت پر حج فرض نہیں رہے گا کیونکہ استطاعت حاصل نہیں رہی۔
(3)
بعض علماء نے فرمایا اگر دوسری عورتیں اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ان کے قافلے کے ساتھ وہ عورت بھی جا سکتی ہے جس کا محرم نہیں یا اس کے محرم کو سفر حج کی طاقت نہیں کیونکہ اس صورت میں عورت کی عزت وعصمت کے لیے وہ خطرات بالعموم نہیں رہتے جن کے پیش نظر عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2900 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3061 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3061. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!فلاں فلاں جنگ میں میرا نام لکھا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج پر جانے کے لیے تیار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3061]
حدیث حاشیہ: اس سے بھی اسم نویسی کا ثبوت ہوا‘ یہی ترجمہ باب ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خاوند یا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خاوند یا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3061 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3061 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3061. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ!فلاں فلاں جنگ میں میرا نام لکھا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج پر جانے کے لیے تیار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3061]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے بھی مردم شماری کا ثبوت ملتا ہے خاص طور پر جہاد میں شرکت کرنے والوں کا باضابطہ اندراج ہونا چاہیے تاکہ مال غنیمت کی تقسیم یا جنگ کے بعد شہداء کا پتہ چل سکے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا اور کوئی محرم ہو اس کے بغیر اس کا سفر حج جائز نہیں۔
1۔
اس حدیث سے بھی مردم شماری کا ثبوت ملتا ہے خاص طور پر جہاد میں شرکت کرنے والوں کا باضابطہ اندراج ہونا چاہیے تاکہ مال غنیمت کی تقسیم یا جنگ کے بعد شہداء کا پتہ چل سکے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا اور کوئی محرم ہو اس کے بغیر اس کا سفر حج جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3061 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 473 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
473- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مرد کسی عورت سے تنہا ہرگز نہ رہے، اور کسی بھی عورت کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ سفر پر جائے ماسوائے اس کے کہ اس اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز ہونا چاہئے۔“ ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میرا نام فلاں، فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لئے درج کرلیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے کے لئے جارہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: کوفہ س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:473]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ تنہا سفر نہیں کر سکتی، خواہ سفر حج ہی کیوں نہ ہو، محرم رشتے داروں کے علاوہ تمام رشتے داروں، جو غیر محرم ہوں، ان سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے، آج کل بہت غلط رواج بن چکا ہے کہ جب شادی ہوتی ہے تو عورت پردے کے ساتھ خاوند کے گھر میں داخل ہوتی ہے، خاوند کہتا ہے کہ یہ میرا بھائی ہے، اس سے کیا پردہ کرنا، یہ میرے چچا کا بیٹا ہے نہیں بلکہ جو اللہ تعالیٰ نے محرم رشتے بنائے ہیں، صرف ان سے عورت پردے کو ہٹا سکتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ تنہا سفر نہیں کر سکتی، خواہ سفر حج ہی کیوں نہ ہو، محرم رشتے داروں کے علاوہ تمام رشتے داروں، جو غیر محرم ہوں، ان سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے، آج کل بہت غلط رواج بن چکا ہے کہ جب شادی ہوتی ہے تو عورت پردے کے ساتھ خاوند کے گھر میں داخل ہوتی ہے، خاوند کہتا ہے کہ یہ میرا بھائی ہے، اس سے کیا پردہ کرنا، یہ میرے چچا کا بیٹا ہے نہیں بلکہ جو اللہ تعالیٰ نے محرم رشتے بنائے ہیں، صرف ان سے عورت پردے کو ہٹا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 473 سے ماخوذ ہے۔