حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سائب بن یزید کہتے ہیں کہ` میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا ، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔

وضاحت:
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب السنة / حدیث: 29
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3855 ، ومصباح الزجاجة : 13 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجہاد والسیر 26 ( 2824 ) ، سنن الدارمی/المقدمة 28 ( 286 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔`
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 29]
اردو حاشہ:
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 29 سے ماخوذ ہے۔