سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : فَضْلِ دُعَاءِ الْحَجِّ باب: حاجی کی دعا کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی ، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حاجی کی دعا کی فضیلت۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2893]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2893]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ تین سفر بہت افضل ہیں کیونکہ ان افراد نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں سفر کی مشقت برداشت کی ہے۔
اپنا ذاتی مقصد پیش نظر نہیں اس لیے اللہ بھی ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔
فوائد و مسائل:
یہ تین سفر بہت افضل ہیں کیونکہ ان افراد نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں سفر کی مشقت برداشت کی ہے۔
اپنا ذاتی مقصد پیش نظر نہیں اس لیے اللہ بھی ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2893 سے ماخوذ ہے۔