سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ باب: سواری پر حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ ، وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِي أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ أَوْ لَا تُسَاوِي ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا ، وَلَا سُمْعَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی ، یا اتنی بھی نہیں ، پھر فرمایا : ” اے اللہ ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سواری پر حج کرنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: ” اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2890]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: ” اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2890]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے سفر میں ضروری سامان کا استعمال درست ہے مثلاً: اونٹ پر کجاوہ رکھ کر سفر کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح بس اور جہاز کا سفر درست ہے۔
کیونکہ یہ ایک ضرورت ہے اس سے عیش وعشرت مقصود نہیں۔
(2)
رسول اللہﷺ نے معمولی قسم کا لباس پہنا اور معمولی سواری پر سفر کیا تاکہ زیب وزینت کا اظہار نہ ہو۔
(3)
عیدین اور جمعہ میں زیب و زینت کا اظہار درست ہے لیکن حج وعمرہ کے سفر میں زیادہ سے زیادہ سادگی اختیار کرنا مناسب ہے۔
(4)
نیکی کے عمل میں اخلاص کو زیادہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے سفر میں ضروری سامان کا استعمال درست ہے مثلاً: اونٹ پر کجاوہ رکھ کر سفر کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح بس اور جہاز کا سفر درست ہے۔
کیونکہ یہ ایک ضرورت ہے اس سے عیش وعشرت مقصود نہیں۔
(2)
رسول اللہﷺ نے معمولی قسم کا لباس پہنا اور معمولی سواری پر سفر کیا تاکہ زیب وزینت کا اظہار نہ ہو۔
(3)
عیدین اور جمعہ میں زیب و زینت کا اظہار درست ہے لیکن حج وعمرہ کے سفر میں زیادہ سے زیادہ سادگی اختیار کرنا مناسب ہے۔
(4)
نیکی کے عمل میں اخلاص کو زیادہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2890 سے ماخوذ ہے۔