سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّ الْمُتَابَعَةَ بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو ، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حج اور عمرہ کی فضیلت۔`
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج وعمرے پے درپے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حج کیا جائے تو اس کے بعد عمرہ بھی کیاجائے۔
اور اگر عمرے کا موقع مل جائے تو کوشش کی جائےکہ حج بھی ادا کرلیا جائے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہےکہ حج اور عمرہ باربار ادا کیا جائے۔
جب بھی حج کا موقع ملے حج کرلیا جائےاور جب عمرے کا موقع ملے عمرہ کرلیا جائے۔
(2)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
جوعمرہ کا خرچ بھی اللہ کی راہ میں ہے اس لیے اس سے بھی اس کے مال میں اضافہ ہوتا ہےاور فقر فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
(3)
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔
اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج)
بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اور یہ بہت سے گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حج وعمرے پے درپے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حج کیا جائے تو اس کے بعد عمرہ بھی کیاجائے۔
اور اگر عمرے کا موقع مل جائے تو کوشش کی جائےکہ حج بھی ادا کرلیا جائے۔
یہ مطلب بھی ہو سکتا ہےکہ حج اور عمرہ باربار ادا کیا جائے۔
جب بھی حج کا موقع ملے حج کرلیا جائےاور جب عمرے کا موقع ملے عمرہ کرلیا جائے۔
(2)
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
جوعمرہ کا خرچ بھی اللہ کی راہ میں ہے اس لیے اس سے بھی اس کے مال میں اضافہ ہوتا ہےاور فقر فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
(3)
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔
اس لیے اسے حج اصغر (چھوٹا حج)
بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
اور یہ بہت سے گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2887 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 17 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو، کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے۔“۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:17]
فائدہ:
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے ”حج اصغر“ (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
➊ اس حدیث میں حج و عمرہ مسلسل کرنے پر رغبت دلائی گئی ہے، اگر کسی نے عمرہ کیا ہے تو وہ حج کرے اور اگر کسی نے حج کیا تو وہ عمرہ کرے۔ عمرہ اور حج اگرچہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، لیکن اپنے مال کو حج اور عمرہ کے سفر میں خرچ کرنا بہت زیادہ اہمیت والا عمل ہے، لہٰذا پوری زندگی جب بھی موقع میسر آئے حج یا عمرہ کرتے رہنا چاہیے۔ بعض لوگ صرف عمرہ کرتے ہیں اور زندگی میں بہت زیادہ عمرے کرتے رہتے ہیں لیکن حج نہیں کرتے۔ یہ بات غلط ہے۔ جو کئی بار عمرے کر سکتا ہے، گویا اس کے پاس حج کی بھی طاقت ہے، تو وہ حج کے فرایضے کو اول فرصت میں ادا کرے۔
➋ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کا خرچہ بھی اللہ تعالی کی راہ میں ہے۔ اس لیے اس سے بھی مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور فقر و فاقہ سے نجات ملتی ہے۔
➌ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عمرہ بھی ایک قسم کا حج ہی ہے۔ اس لیے اسے ”حج اصغر“ (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں ان دونوں کا ثواب بہت زیادہ ہے اور یہ بہت گناہوں سے معافی کا باعث بنتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔