حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ ؟ ، قَالَ : " لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، لَوَجَبَتْ ، وَلَوْ وَجَبَتْ ، لَمْ تَقُومُوا بِهَا ، وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا عُذِّبْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا حج ہر سال واجب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ ( ہر سال ) واجب ہو جائے گا ، اور اگر ( ہر سال ) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے ، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 2885
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليمان الأعمش عنعن, و روي مسلم (1337): ((لو قلت: نعم،لوجبت و لما استطعتم)) وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 927 ، ومصباح الزجاجة : 1016 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/387 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حج کی فرضیت کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ (ہر سال) واجب ہو جائے گا، اور اگر (ہر سال) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2885]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
فرض کا ترک عذاب کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2885 سے ماخوذ ہے۔