سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْخُرُوجِ إِلَى الْحَجِّ باب: حج کے لیے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2883
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ ، وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس ، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے ، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے ، ( جیسے سواری وغیرہ ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہو سکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہو سکتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حج کے لیے نکلنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2883]
عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2883]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کا موقع ملے تو اسے جلد انجام دینا بہتر ہے ممکن ہے یہ موقع نکل جانے کے بعد دوبارہ نہ ملے۔
(2)
حج سال میں ایک ہی بار خاص ایام میں ادا کیا جا سکتا ہے۔
اگر طاقت ہونے کے باوجود اگلے سال پر چھوڑدیا جائے تو ممکن نہ ہو۔
یا شاید زندگی میں اگلا حج نہ آئے اور اگر آئے تو آدمی کو استطاعت نہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
نیکی کا موقع ملے تو اسے جلد انجام دینا بہتر ہے ممکن ہے یہ موقع نکل جانے کے بعد دوبارہ نہ ملے۔
(2)
حج سال میں ایک ہی بار خاص ایام میں ادا کیا جا سکتا ہے۔
اگر طاقت ہونے کے باوجود اگلے سال پر چھوڑدیا جائے تو ممکن نہ ہو۔
یا شاید زندگی میں اگلا حج نہ آئے اور اگر آئے تو آدمی کو استطاعت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2883 سے ماخوذ ہے۔