حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے ، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ہر دو رکعت کے بعد واپس جا کر سو جاتے، پھر اٹھ کر مسواک کرتے جیسا کہ سنن ابوداود (رقم: ۵۸) میں تفصیل وارد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 288
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وانظر الحديث الآتي (1321), سليمان الأعمش مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5480 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة 15 ( 256 ) ، سنن ابی داود/الطہارة 30 ( 55 ) ، مسند احمد ( 1/ 218 ) ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 1321 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسواک کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 288]
اردو حاشہ: (1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديث مسند امام احمد: (3؍372)
حديث: 1882 وصحيح الترغيب للألباني حديث: 208 و صحيح أبي داود للألباني حديث: 52)
لہذا مذکورہ حدیث دیگر شواہد کی بناء پر قابل حجت ہے۔

(2)
نماز تہجد میں رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل یہی تھا کہ دودورکعت پر سلام پھیرتے تھے۔
اوروتر سمیت گیارہ رکعت ادا کرتے تھے۔
 (صحیح بخاری، الوتر، باب ماجاء فی الوتر، حدیث: 992 والتھجد، باب قيام النبي ﷺباليل في رمضان وغيره، حديث: 1147)
 
(3)
پہلے بیان ہوا ہے کہ رسول اللہﷺ نماز تہجد کے لیے تیاری کےوقت بھی مسواک کیا کرتے تھے (دیکھیے: حدیث: 286)
یہاں ذکر ہے کہ تہجد کی ہر دو رکعت سے فارغ ہوکر مسواک کرتےتھے۔
اگر یہ روایت صحیح ہے (جیساکہ بعض حضرات نے اس کی تصحیح کی ہے)
تو ممکن ہے کہ کبھی کبھار اس طرح کرتے ہوں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 288 سے ماخوذ ہے۔