سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : بَيْعَةِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ أَقَرَّ بِهَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ ، قَالَ لَهُن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " ، لَا . وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ ، إِلَّا مَا أَمَرَهُ اللَّهُ ، وَلَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ : إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ : " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " كَلَامًا .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` مومن عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان : «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ( سورة الممتحنة : 12 ) ” اے نبی ! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی ، زناکاری نہ کریں گی ، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی ، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی ، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی ، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے “ کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی ، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ہے “ اللہ کی قسم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے : ” میں نے تم سے بیعت لے لی “ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی ( نامحرم ) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا ، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے : ” میں نے تم سے بیعت لے لی “ صرف زبانی یہ کہتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» (سورة الممتحنة: 12) ” اے نبی! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی، زناکاری نہ کریں گی، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2875]
فوائد ومسائل: (1)
حدیث میں مذکور آیت کے مکمل الفاظ اس طرح ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ ’’اے نبیﷺ! جب مومن عورتیں آپﷺ کے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی چوری نہ کریں گی بدکاری نہ کریں گی اپنی اولاد کو مار نہ ڈالیں گی کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑلیں اور کسی نیک کام میں آپ کی حکم عدولی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کریں۔
بے چک اللہ تعالی بہت بخشنے اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
(4)
آپ عورتوں سے یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ وغیرہ نہیں کریں گی۔
سنن ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جس نیکی کے بارے میں ہم سے وعدہ لیا گیا تھا کہ ہم اس میں نبی ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی اس میں یہ بھی شامل ہے کہ چہرہ (نوچ کر)
زخمی نہ کریں واویلا (اور بین)
نہ کریں گریبان چاک نہ کریں اور بال نہ بکھیریں۔ (سنن أبي داؤد الجنائز باب النوح حديث: 313)
(1)
دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے، البتہ ہجرت کرکے آنے والی خواتین کا ظاہری طور پر امتحان لینا ضروری قرار پایا کہ واقعی وہ مسلمان ہیں اور محض اسلام کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کر آئی ہیں، کوئی دنیوی یا نفسانی غرض تو اس ہجرت کا سبب نہیں ہے؟ کہیں اپنے خاوندوں سے ناراض ہو کر یا خانگی معاملات اور گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر یا محض سیر و سیاحت یا کوئی دوسری غرض تو اس ہجرت کا سبب نہیں بنی؟ (2)
اس حکم کے مخاطب چونکہ مومن حضرات ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غرض کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا تھا اور وہی مدینہ طیبہ پہنچنے والی خواتین کا امتحان لیتے تھے۔
اس امتحان کے بعد ان مہاجر عورتوں بلکہ عام خواتین اسلام کو بیعت کا حکم ہوا اور یہ بیعت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تھے کیونکہ بیعت سے متعلق آیت کے مخاطب آپ ہی ہیں اور جن گناہوں سے بچنے کی بیعت لی جاتی تھی وہ سب کبیرہ گناہ ہیں اور ان کا اس وقت عرب میں عام رواج تھا اس بیعت کی تفصیل سورۂ ممتحنہ آیت: 12 میں بیان ہوئی ہے۔
واللہ أعلم
ان سب سے غیر عورتیں مراد ہیں۔
بیعت میں بھی آپ نے ان کا ہاتھ نہیں چھوا۔
نسائی اور طبرانی کی روایت میں یوں ہے۔
امیمہ بنت رقیقہ کئی عورتوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئئی اور مصافحہ کے لیے کہا۔
آپ نے فرمایا کہ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔