حدیث نمبر: 2872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح متواتر , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجزیة والموادعة 22 ( 3186 ) ، صحیح مسلم/الجہاد 4 ( 1736 ) ، ( تحفة الأشراف : 9250 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/411 ، 417 ، 441 ) ، سنن الدارمی/البیوع 11 ( 2584 ) ( صحیح متواتر ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1736

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیعت پوری کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2872]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
شرعی حکمران اور خلیفہ کی بیعت کرنے کے بعد اسے توڑدینا بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
قیامت کے دن ایسے مجرم کی بہت زیادہ بدنامی اور رسوائی ہوگی۔

(3)
جھنڈ ا دور سے نظر آ جانے والی چیز ہے اس لیے شرعی خلیفہ کے باغی کی بہت زیادہ تشہیر ہوگی۔
دور سے دیکھ کر لوگ کہیں گے، یہ شخص غدار تھا۔
یہ جھنڈا اس کی غداری کا اعلان ہے۔

(4)
بعض گناہوں کی سزا جہنم میں جانے سے پہلے محشر کے میدان میں ہی مل جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2872 سے ماخوذ ہے۔