سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : طَاعَةِ الإِمَامِ باب: امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔
حدیث نمبر: 2862
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الرَّبَذَةِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ ، فَقِيلَ : هَذَا أَبُو ذَرٍّ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے ، اس سے کہا گیا : یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خلیل ( جگری دوست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت سے اتفاق کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر کسی مستحب یا مسنون امر کی وجہ سے اتفاق ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو تو جب تک یہ اندیشہ باقی رہے، اس امر مستحب یا مسنون سے باز رہ سکتے ہیں، لیکن جہاں تک ہو سکے حکمت عملی سے لوگوں کو سمجھا دینا چاہئے کہ یہ فعل مستحب اور سنت رسول ہے، اور اس کے لئے فتنہ و فساد کرنا صریح غیر ایمانی بات ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2862]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
مسلمان حاکم کی اطاعت ضروری ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں عہدہ اہلیت وقابلیت کی بنیاد پر دیا جاتا ہے رنگ ونسل یا ظاہری حسن جمال کی بنیاد پر نہیں۔
(3)
حکمرانوں کا فرض ہے کہ اسلامی سلطنت کا نظم ونسق احکام شریعت کے مطابق چلائیں ورنہ خلاف شریعت حکم تسلیم کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔
اور اسے بغاوت قرار نہیں دیا جائے گا۔
(4)
عالم کا احترام کرنا چاہیے۔
(5)
عالم کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی موجودگی میں کم درجے کا عالم نماز نہ پڑھائے۔
(6)
عالم کی اجازت سے کم درجے کا شخص بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔
(7)
حاکم اپنے عہدے کی بناء پر نماز کا امام بننے کا حق رکھتا ہے۔
(8)
مسلمانوں میں اجتماعی ڈسپلن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
فوائد و مسائل: (1)
مسلمان حاکم کی اطاعت ضروری ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں عہدہ اہلیت وقابلیت کی بنیاد پر دیا جاتا ہے رنگ ونسل یا ظاہری حسن جمال کی بنیاد پر نہیں۔
(3)
حکمرانوں کا فرض ہے کہ اسلامی سلطنت کا نظم ونسق احکام شریعت کے مطابق چلائیں ورنہ خلاف شریعت حکم تسلیم کرنے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔
اور اسے بغاوت قرار نہیں دیا جائے گا۔
(4)
عالم کا احترام کرنا چاہیے۔
(5)
عالم کے احترام میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی موجودگی میں کم درجے کا عالم نماز نہ پڑھائے۔
(6)
عالم کی اجازت سے کم درجے کا شخص بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔
(7)
حاکم اپنے عہدے کی بناء پر نماز کا امام بننے کا حق رکھتا ہے۔
(8)
مسلمانوں میں اجتماعی ڈسپلن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2862 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1837 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے تلقین فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں خواہ امیر اعضاء کٹا غلام ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4755]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مُجَدَّعَ الأَطرَاف: جس کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہوں، مقصود ہے ایک حقیر اور بدصورت غلام بھی اگر حاکم ہو اور صحیح کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔
مُجَدَّعَ الأَطرَاف: جس کے اعضاء کاٹ دئیے گئے ہوں، مقصود ہے ایک حقیر اور بدصورت غلام بھی اگر حاکم ہو اور صحیح کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت بھی واجب ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1837 سے ماخوذ ہے۔