سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : النَّفَلِ باب: مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے ، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ لوٹتے وقت پھر لڑائی کرنا دشوار ہوتا ہے اس لئے اس میں زیادہ عطیہ مقرر کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2852]
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2852]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جنگ کے شروع میں کوئی دستہ بہادری کا خاص انجام دے مثلاً دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور غنیمت حاصل کرے اور غنیمت حاصل کرے تو انھیں اس میں سے چوتھائی حصہ بطور انعام دیا جائے اور اگر کوئی دستہ اس قسم کا کارنامہ اس وقت انجام دے جب لشکر واپس ہو رہا ہو تو انھیں اس غنیمت میں سے تیسرا حصہ انعام دیا جائے۔
فوائد ومسائل: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جنگ کے شروع میں کوئی دستہ بہادری کا خاص انجام دے مثلاً دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور غنیمت حاصل کرے اور غنیمت حاصل کرے تو انھیں اس میں سے چوتھائی حصہ بطور انعام دیا جائے اور اگر کوئی دستہ اس قسم کا کارنامہ اس وقت انجام دے جب لشکر واپس ہو رہا ہو تو انھیں اس غنیمت میں سے تیسرا حصہ انعام دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2852 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1561 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نفل کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام (نفل) دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1561]
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام (نفل) دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1561]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھرواپس جہاد کے لیے جانا مشکل کا م ہے۔
وضاحت:
1؎:
کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھرواپس جہاد کے لیے جانا مشکل کا م ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1561 سے ماخوذ ہے۔