حدیث نمبر: 2843
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا : أُبْنَى ، فَقَالَ : ائْتِ أُبْنَى صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا : ” ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ ، اور اسے آگ لگا دو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎ اُبنی: فلسطین میں عسقلان اور رملہ کے درمیان ایک مقام ہے، صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ایک لشکر میں بھیجا، تو فرمایا: اگر تم فلاں فلاں دو شخصوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا ، پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا فلانے فلانے کو جلانے کا، لیکن آگ سے اللہ ہی عذاب کرتا ہے تم اگر ان کو پاؤ تو قتل کر ڈالنا، لیکن درختوں کا اور بتوں کا اور سامان کا جلانا تو جائز ہے، اور کئی احادیث سے اس کی اجازت ثابت ہے جب اس میں مصلحت ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (2616), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد 91 ( 2616 ) ، ( تحفة الأشراف : 107 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/205 ، 209 ) ( ضعیف ) » ( صالح بن أبی الاخضر ضعیف ہیں جن کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2616

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان۔`
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا: ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ، اور اسے آگ لگا دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2843]
اردو حاشہ:
فائدہ: زہیر شاویش بیان کرتے ہیں: اُبني ایک جگہ کا نام ہے جو موجودہ اردن میں واقع ہے۔ (حاشہ ضعیف سنن ابن ماجہ از علامہ البانی ؒ۔)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2843 سے ماخوذ ہے۔