حدیث نمبر: 2842
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْمُرَقَّعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهَا النَّاسُ فَأَفْرَجُوا لَهُ ، فَقَالَ : " مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ فِيمَنْ يُقَاتِلُ " ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ : " انْطَلِقْ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ ، يَقُولُ : لَا تَقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً ، وَلَا عَسِيفًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے ، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا ، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے ، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی “ ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا : خالد بن ولید کے پاس جاؤ ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں ، بچوں ، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3449 ، ومصباح الزجاجة : 1008 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجہاد 121 ( 2669 ) ، مسند احمد ( 4/178 ) ( حسن صحیح ) »