سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ باب: جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ نِيَارٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ " ، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کافر و مشرک سے جہاد میں بلاضرورت مدد لینا جائز نہیں، صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کا قصد کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا، جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2832]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2832]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے جہاد کرتا ہے۔
مسلمانوں کے ملک کی زمین کا دفاع بھی اسی لیے اہم ہے کہ یہ دین کے دفاع کا ایک حصہ ہے۔
مشرک چونکہ اس عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ خلوص کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے جنگ نہیں کرسکتا۔
(2)
غیر مسلم یا تو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہوتے ہیں یا مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کا مشرک (حربی)
اسلامی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلامی فوج اس کے خلاف لڑتی ہے۔
دوسری قسم کا مشرک (ذمی)
مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتا ہے۔
اور جس کی حفاظت مسلمان کرتے ہیں اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع کرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے جہاد کرتا ہے۔
مسلمانوں کے ملک کی زمین کا دفاع بھی اسی لیے اہم ہے کہ یہ دین کے دفاع کا ایک حصہ ہے۔
مشرک چونکہ اس عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ خلوص کے ساتھ اس کے دفاع کے لیے جنگ نہیں کرسکتا۔
(2)
غیر مسلم یا تو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہوتے ہیں یا مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کا مشرک (حربی)
اسلامی فوج میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلامی فوج اس کے خلاف لڑتی ہے۔
دوسری قسم کا مشرک (ذمی)
مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتا ہے۔
اور جس کی حفاظت مسلمان کرتے ہیں اس سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2832 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1817 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے، جب آپﷺ حرة الوبره نامی مقام پر پہنچے، تو آپ کو ایک آدمی ملا، جس کی جراءت اور شجاعت و دلیری کا چرچا تھا، تو اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی خوش ہو گئے، جب وہ آپ کو ملا، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کا ساتھ دوں اور آپ کو جو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4700]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ائمہ اربعہ کے نزدیک اگر کافر مسلمانوں کے امیر کے احکام و ہدایات کی پابندی کرے اور مسلمانوں کے بارے میں اس کی رائے اچھی ہو، اور اس سے اس کی جنگی مہارت کی وجہ سے مدد لینے کی ضرورت ہو اور وہ خود خواہش کا اظہار کرے تو اس سے مدد لینا جائز ہے، لیکن اس کو غنیمت میں سے مقررہ حصہ نہیں ملے گا، لیکن بطور عطیہ اور انعام اس کو کچھ دیا جائے گا۔
اور اگر اس سے مد (لینے کی ضرورت نہ ہو، یا اس کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ فساد و خرابی کا باعث بنے گا، تو پھر اس سے مدد نہیں لی جائے گی اور یہاں آپ نے انکار اس لیے فرمایا، کہ آپ نے فراست نبوت سے یہ بھانپ لیا تھا، وہ مسلمان ہو جائے گا، یا یہ پہلی جنگ تھی اور آپ اس کی مدد کی ضرورت محسوس نہیں فرماتے تھے، کیونکہ آپ مدینہ سے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے نکلے تھے، ابھی لشکر سے مڈبھیڑ کا علم نہیں ہوا تھا۔
اور اگر اس سے مد (لینے کی ضرورت نہ ہو، یا اس کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ فساد و خرابی کا باعث بنے گا، تو پھر اس سے مدد نہیں لی جائے گی اور یہاں آپ نے انکار اس لیے فرمایا، کہ آپ نے فراست نبوت سے یہ بھانپ لیا تھا، وہ مسلمان ہو جائے گا، یا یہ پہلی جنگ تھی اور آپ اس کی مدد کی ضرورت محسوس نہیں فرماتے تھے، کیونکہ آپ مدینہ سے قافلہ پر حملہ کرنے کے لیے نکلے تھے، ابھی لشکر سے مڈبھیڑ کا علم نہیں ہوا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1817 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1558 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1558]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1558]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔
2؎:
بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری وجرأتمندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئے، پھر اس نے خود ہی صراحت کردی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں، پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کردی تو آپﷺ نے اس کا تعاون لینے سے انکار کردیا۔
پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا، یہاں پھر یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کایہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جاسکتی ہے جیساکہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مددلی تھی، بہر حال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
وضاحت:
1؎:
مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔
2؎:
بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری وجرأتمندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہوگئے، پھر اس نے خود ہی صراحت کردی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں، پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کردی تو آپﷺ نے اس کا تعاون لینے سے انکار کردیا۔
پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا، یہاں پھر یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔
ایک جماعت کایہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جاسکتی ہے جیساکہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مددلی تھی، بہر حال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت وحاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1558 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2732 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2732]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2732]
فوائد ومسائل:
جب مشرکین سے مدد نہیں لی جاتی تو غنیمت میں ان کاحصہ ہی بے معنی ہے۔
اور اسلامی سیاست کا بنیادی قاعدہ و اصول یہی ہے کہ مشرکین سے مدد نہ لی جائے۔
مگر حصب احوال ومصالح اگر کہیں اضطراری کیفیت ہوتو بمقابلہ کفار مدد لی جا سکتی ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نہیں جیسا کہ سفر ہجرت میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن اریقط لیثی کی رہنمائی میں اپنا سفر مکمل فرمایا تھا۔
یہ مشرک تھا مگر قابل اعتماد تھا۔
ایسی کوئی صورت ہو تو انعام وغیرہ دیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم دیکھئے۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الاستعانة بالمشرکین:254/7)
جب مشرکین سے مدد نہیں لی جاتی تو غنیمت میں ان کاحصہ ہی بے معنی ہے۔
اور اسلامی سیاست کا بنیادی قاعدہ و اصول یہی ہے کہ مشرکین سے مدد نہ لی جائے۔
مگر حصب احوال ومصالح اگر کہیں اضطراری کیفیت ہوتو بمقابلہ کفار مدد لی جا سکتی ہے۔
مسلمانوں کے خلاف نہیں جیسا کہ سفر ہجرت میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن اریقط لیثی کی رہنمائی میں اپنا سفر مکمل فرمایا تھا۔
یہ مشرک تھا مگر قابل اعتماد تھا۔
ایسی کوئی صورت ہو تو انعام وغیرہ دیا جا سکتا ہے۔
واللہ اعلم دیکھئے۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الاستعانة بالمشرکین:254/7)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2732 سے ماخوذ ہے۔