حدیث نمبر: 2827
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ مُحَمَّدٌ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ : " يَا أَكْثَمُ ، اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ ، يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ ، يَا أَكْثَمُ ، خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اکثم ! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو ، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے ، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی ، اکثم ! چار ساتھی بہتر ہیں ، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے ، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے ، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا لكن شطره الثاني خير صحيح من وجه آخر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, أبو سلمة العاملي الأزدي: متروك ورماه أبو حاتم بالكذب وعبدالملك بن محمد الصنعاني البرسمي لين الحديث (تقريب:8145،4211), وللحديث طريق آخر عند البيهقي (157/9) وإسناده ضعيف مظلم والشطر الأخير: ’’خيرالصحابة ‘‘ إلخ في ضعيف سنن أبي داود (2611), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1571 ، ومصباح الزجاجة : 1001 ) ( ضعیف جداً ) » ( عبدالملک بن محمد الصنعانی لین الحدیث اور ابو سلمہ العاملی متروک ہے ، بلکہ ابو حاتم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، آخری فقرہ : «خير الرفقاء» دوسرے طریق سے صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 986 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سریہ (فوجی دستوں) کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2827]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت ضعیف ہے تاہم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ سفر میں اکیلے آدمی کو نہیں جانا چاہیے خاص طور پر جب پیدل سفر ہو یا لمبا سفر ہو۔
ارشاد نبوی ہے: ایک سوار ایک شیطان ہے دو سوار دو شیطان ہیں اور تین سوار ایک قافلہ ہے۔
 (سنن أبي داؤد، الجهاد، باب الرجل يسافر وحده، حديث: 7/ 62)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2827 سے ماخوذ ہے۔