حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی : «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» ” میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2825
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14626 ، ومصباح الزجاجة : 999 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/358 ، 403 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں ، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 16 و 2547 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی: «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2825]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسافر کو الوداع کہتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے۔

(2)
مجاہدین کو اہتمام سے رخصت کرنا چاہیے اور نمایان شخصیات کو چاہیے کہ انھیں خود رخصت کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2825 سے ماخوذ ہے۔