حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ ، فَقَدْ عَصَانِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا ، تو اس نے میری نافرمانی کی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ فليس منا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853), و حديث مسلم (1919) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9971 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجہاد 24 ( 2513 ) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 ( 1637 ) ، سنن النسائی/الجہاد 26 ( 3148 ) ، الخیل 8 ( 3608 ) ، مسند احمد ( 4/144 ، 146 ، 148 ، 154 ، سنن الدارمی/الجہاد 14 ( 2449 ) ( ضعیف ) » ( فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے ، اور «فلیس منّا» کے لفظ سے صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1919

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2814]
اردو حاشہ:
 فائدہ: اسلحہ کی ٹرینگ لینے کے بعد اس کی مشق کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے استعمال کی مہارت قائم رہے اور جہاد کے موقع پر مشکل پیش نہ آئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2814 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1919 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا، آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں اور آپ بوڑھے ہیں، آپ کے لیے یہ مشکل (مشقت کا) کام ہے، حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ جھیلتا، حارث کہتے ہیں، میں نے ابن شماسہ سے پوچھا، وہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے تیر اندازہ سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا، وہ ہم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4949]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، جنگی اسلحہ کی تربیت حاصل کر کے اس کو نظر انداز کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1919 سے ماخوذ ہے۔