حدیث نمبر: 2806
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : " أَخَذَ دِرْعَيْنِ كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3805 ، ومصباح الزجاجة : 993 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجہاد 75 ( 2590 ) ، مسند احمد ( 3/449 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2590

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2590 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´زرہ پہننے کا بیان۔`
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2590]
فوائد ومسائل:
زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مگر حفاظت کی غرض سے ہتھیار لینا اور زرہ وغیرہ پہننا مشروع ہے۔
اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2590 سے ماخوذ ہے۔