سنن ابن ماجه
كتاب السنة— کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
بَابُ : التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ ، وَقَالُوا : أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ " .
´قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ` ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا ، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے : کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں ؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں ، کہا : نہیں ، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں ، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے : ” تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا ، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو ( مارے شوق کے ) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎ ، اور کہیں گے : یہ اصحاب محمد ہیں ، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا ، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: ”تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 28]
اس روایت سے منکرین حدیث، حدیث کی اہمیت کے گھٹانے پر استدلال کرتے ہیں، لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔