حدیث نمبر: 2797
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو ، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا ، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کی نیت شہادت کی تھی اور «نیۃ المومن خیر من عملہ» مشہور ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2797
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة 46 ( 1909 ) ، سنن ابی داود/الصلا ة361 ( 1520 ) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 ( 1653 ) ، سنن النسائی/الجہاد 36 ( 3164 ) ، ( تحفة الأشراف : 4655 ) ، سنن الدارمی/الجہاد 16 ( 2451 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3164 | صحيح مسلم: 1909 | سنن ترمذي: 1653 | سنن ابي داود: 1520

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب۔`
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2797]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اخلاص کی برکت بہت عظیم ہے۔

(2)
شہادت کی تمنا رکھنا بہت بڑا عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2797 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3164 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´(اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3164]
اردو حاشہ: ’’سچے دل کے ساتھ‘‘ نہ کہ جھوٹ موٹ اظہار خطابت کے لیے جیسا کہ عام رواج ہے۔ (2) ’’شہادت مانگے گا‘‘ یہ موت کی دعا نہیں بلکہ اچھی موت کی دعا ہے‘ جب بھی آئے۔ اور یہ مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3164 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1909 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو انسان سچائی کے ساتھ شہادت کی اللہ سے درخواست کرتا ہے، اللہ اسے شہادت کے مقامات پر پہنچا دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔‘‘ ابو طاہر کی حدیث میں صدق (سچائی) کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4930]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حسن نیت اور دل کی گہرائی سے کسی عمل کی تمنا اور آرزو کرنا، اس قدر پاکیزہ عمل ہے، کہ انسان کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے بغیر ہی اس کا صلہ اور اجر عنایت فرما دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص نیت کی توفیق بخشے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1909 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1653 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´شہادت کی دعا مانگنے کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1653]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر وہ شہید ہوکر نہ مرے تو بھی وہ شہداء کے حکم میں ہوگا اور شہیدوں کا ثواب اسے حاصل ہوگا گویا شہادت کے لیے صدق دل سے دعا کرنے کی وجہ سے اسے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔
اللہ کی راہ میں شہادت کی دعااہلِ ایمان کو کرتے ہی رہنی چاہئے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1653 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1520 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1520]
1520. اردو حاشیہ: دعا کی قبولیت کےلئے سچے دل سے دعا کرنا شرط ہے کیونکہ صدق واخلاص ہی پر تمام اعمال کا دارومدار ہے۔ ونسال اللہ التوفیق
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1520 سے ماخوذ ہے۔