حدیث نمبر: 2794
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے ، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی پوری شہادت ہو خود بھی مارا جائے، اور گھوڑا بھی، یا اللہ تو ہمیں بھی راہ حق، اور خدمت دین میں شہادت نصیب فرما، اور موت کی تکالیف سے اور ہر ایک بیماری اور درد کے صدمہ سے بچا۔ آمین۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2794
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10757 ، ومصباح الزجاجة : 990 ) ، وقد أخرحہ : مسند احمد ( 4/114 ) ( صحیح ) » ( سند میں محمد بن ذکوان اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں ، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب۔`
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2794]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
جان اور مال دونوں کی قربانی صرف جان کی قربانی افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2794 سے ماخوذ ہے۔