حدیث نمبر: 2791
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَوْحٍ الدَّارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْقَاضِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَالَجَ عَلَفَهُ بِيَدِهِ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا ، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا ، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2791
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, و قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،محمد (بن عقبة القاضي) و أبوه و جده مجهولون و الجد لم يسمّ ‘‘, و أحمد بن يزيد مستور (تقريب: 128) و حديث البخاري (2853) و أحمد (458/6) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2059 ، ومصباح الزجاجة : 988 ) ( صحیح ) » ( سند میں محمد بن عقبہ بیٹے ، باپ اور دادا سب مجہول ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 553

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب۔`
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2791]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
گھوڑا باندھنے کا مطلب گھوڑا پالنا اور جہاد کے لیے تیار رکھنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2791 سے ماخوذ ہے۔