حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَسِيدٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنْ تَسْتَقيِمُوا ، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم استقامت پر قائم رہو ، اور کیا ہی بہتر ہے ، اگر تم اس پر قائم رہ سکو ، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے ، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسحاق بن أسيد: فيه ضعف و شيخه أبو حفص الدمشقي: مجهول (تقريب: 342،8057), والحديث السابق (الأصل: 277) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 386
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4933 ، ومصباح الزجاجة : 116 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابو حفص دمشقی مجہول ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 2/137 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پابندی سے وضو کرنے کا بیان۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم استقامت پر قائم رہو، اور کیا ہی بہتر ہے، اگر تم اس پر قائم رہ سکو، اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے، اور وضو کی محافظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 279]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: ارواء الغلیل: 2؍137)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 279 سے ماخوذ ہے۔