حدیث نمبر: 2781
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَ : " وَيْحَكَ ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ارْجِعْ ، فَبَرَّهَا " ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَ : " وَيْحَكَ ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَارْجِعْ إِلَيْهَا فَبَرَّهَا " ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ أَمَامِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَ : " وَيْحَكَ ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَيْحَكَ الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ " ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا : میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ، کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واپس جاؤ ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو “ پھر میں دوسری جانب سے آیا ، اور میں نے عرض کیا : میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تیری ماں زندہ ہے “ ؟ میں نے پھر کہا : ہاں ! اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو “ ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ، کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ! اس کے پیر کے پاس رہو ، وہیں جنت ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2781
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/الجہاد 6 ( 3106 ) ، ( تحفة الأشراف : 11375 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/429 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3106

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم۔`
معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ میں نے پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2781]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے اس لیے بعض لوگ پیچھے رہ سکتے ہیں۔

(2)
جب والدین کی خدمت کرنے والا کوئی اور بیٹا نہ ہوتو جہاد کی نسبت والدین کی خدمت زیادہ اہم ہے۔

(3)
جس طرح جہاد سے جنت ملتی ہےاسے طرح والدین کی خدمت سے بھی جنت ملتی ہے۔

(4)
ماں کی خدمت باپ کی خدمت سے زیادہ اہم ہے تاہم باپ کی ناراضی سے بھی بچنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2781 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3106 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔`
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
اردو حاشہ: جنت اس کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت حاصل ہوگی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے۔ جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہوگی مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہٰذا اپنا فرض ادا کرکے جنت حاصل کر۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3106 سے ماخوذ ہے۔