سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : ذِكْرِ الدَّيْلَمِ وَفَضْلِ قَزْوِينَ باب: دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ ، لَطَوَّلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، يَمْلِكُ جَبَلَ الدَّيْلَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو ، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2779]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2779]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ یہ پیش گوئی ضرور پوری ہوگی۔
اگر تمھیں یہ معلوم ہوجائے کہ کل قیامت آنے والی ہےاور آج آخری دن ہےاور اس وقت تک یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی ہو تب بھی یہ ضرور پوری ہوکر رہے گی تاہم یہ روایت ضعیف ہے۔
فوائد و مسائل:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ یہ پیش گوئی ضرور پوری ہوگی۔
اگر تمھیں یہ معلوم ہوجائے کہ کل قیامت آنے والی ہےاور آج آخری دن ہےاور اس وقت تک یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی ہو تب بھی یہ ضرور پوری ہوکر رہے گی تاہم یہ روایت ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2779 سے ماخوذ ہے۔