حدیث نمبر: 2778
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ ، وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ ، وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ ، وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے ، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے ، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے ، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت ( عزرائیل ) کو مقرر کیا ہے ، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے ، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / حدیث: 2778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عفير: ضعيف, والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4872 ، ومصباح الزجاجة : 985 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 115 )