سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : الْخُرُوجِ فِي النَّفِيرِ باب: عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2774
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُسْلِمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ کا غبار ، اور جہنم کا دھواں ، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جس نے جہاد میں گرد و غبار کھایا ہے وہ ضرور جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2774]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2774]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں گردوغبار سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس مشقت سے ڈر کر جہاد سے کنارہ کشی جائز نہیں۔
(2)
جہاد کے لیے خلوص کے ساتھ سفر کرنے والا جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں گردوغبار سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس مشقت سے ڈر کر جہاد سے کنارہ کشی جائز نہیں۔
(2)
جہاد کے لیے خلوص کے ساتھ سفر کرنے والا جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2774 سے ماخوذ ہے۔