سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : مِفْتَاحُ الصَّلاَةِ الطُّهُورُ باب: نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے۔
حدیث نمبر: 276
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَرِيفٍ السَّعْدِيِّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی کنجی پاکی ( وضو ) ہے ، اور اس کی منافی چیزیں پہلی تکبیر تحریمہ سے حرام ہو جاتی ہیں ، اور اس ( یعنی نماز ) سے باہر امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام پھیرنا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «تحریم» : نماز کی حرمت میں دخول اور «تحلیل» : نماز کی حرمت سے خروج کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی نماز میں داخلہ تکبیر ہی سے اور نماز سے خروج تسلیم ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کا دروازہ بند ہوتا ہے بندہ اسے طہارت ہی سے کھول سکتا ہے، یعنی بغیر وضو اور طہارت کے نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح نماز میں آدمی «اللہ اکبر» ہی کہہ کر داخل ہو سکتا ہے، اور «السلام علیکم» ہی کہہ کر اس سے باہر نکل سکتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 238 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز کی تحریم و تحلیل کیا ہے اس کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» (سورۃ فاتحہ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو۔" [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» (سورۃ فاتحہ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو۔" [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 238]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی: آپ ﷺ نے جو ((تَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ)) فرمایا ہے۔
اس کی تاویل کسی اور معنی میں نہیں کی جائیگی۔
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع ساقط الحدیث ہیں، اور طریف بن شہاب ابو سفیان سعدی ضعیف، لیکن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: 3) سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
1؎:
یعنی: آپ ﷺ نے جو ((تَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ)) فرمایا ہے۔
اس کی تاویل کسی اور معنی میں نہیں کی جائیگی۔
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع ساقط الحدیث ہیں، اور طریف بن شہاب ابو سفیان سعدی ضعیف، لیکن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: 3) سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 238 سے ماخوذ ہے۔