سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2755]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2755]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی راہ میں اگرچہ اس سے خلوص سے کی جانے والی ہر نیکی مراد لی جاسکتی ہے تاہم قرآن وحدیث میں یہ لفظ زیادہ تر جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
(2) (دنيا ومافيها)
سے مراد دنیا میں موجود تمام دولت اور تمام خزانے ہیں، یعنی جس طرح ایک دنیا کے طالب کے لیے یہ سب کچھ انتہائی محبوب اور قیمتی ہے۔
اللہ کی نظر میں جہاد اس سے بھی بڑھ کر محبوب اور قیمتی ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مومن کی نظر میں جہاد دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے یعنی دنیا کی دولت ختم ہونے والی ہے جب کہ جہاد کا ثواب جنت کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا بھر کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جتنا ثواب ہو سکتا ہے جہاد میں گزرا ہوا تھوڑا سا وقت اس سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
جو مطلب بھی مراد لیا جائے حدیث کا اصل مقصود جہاد کی فضیلت اور بے حساب ثواب کا اثبات ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی راہ میں اگرچہ اس سے خلوص سے کی جانے والی ہر نیکی مراد لی جاسکتی ہے تاہم قرآن وحدیث میں یہ لفظ زیادہ تر جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
(2) (دنيا ومافيها)
سے مراد دنیا میں موجود تمام دولت اور تمام خزانے ہیں، یعنی جس طرح ایک دنیا کے طالب کے لیے یہ سب کچھ انتہائی محبوب اور قیمتی ہے۔
اللہ کی نظر میں جہاد اس سے بھی بڑھ کر محبوب اور قیمتی ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مومن کی نظر میں جہاد دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے یعنی دنیا کی دولت ختم ہونے والی ہے جب کہ جہاد کا ثواب جنت کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا بھر کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جتنا ثواب ہو سکتا ہے جہاد میں گزرا ہوا تھوڑا سا وقت اس سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
جو مطلب بھی مراد لیا جائے حدیث کا اصل مقصود جہاد کی فضیلت اور بے حساب ثواب کا اثبات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2755 سے ماخوذ ہے۔