سنن ابن ماجه
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
بَابُ : فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے ، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے ، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے ( گھر ) واپس کرے ، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2754]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلسل روزے رکھنا یا مسلسل نماز میں مشغول رہنا ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ انسان اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نماز سے باہر آنے اور روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے لیکن مجاہد جب عملی طور پر جنگ میں مشغول نہ ہو پھر بھی اسے ثواب ملتا رہتا ہے۔
اس لحاظ سے جہاد زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
(2)
مال غنیمت مجاہد کے لیے ایک انعام ہے کیونکہ وہ اسے بھی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔
اس طرح مزید ثواب حاصل کرتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسلسل روزے رکھنا یا مسلسل نماز میں مشغول رہنا ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ انسان اپنی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نماز سے باہر آنے اور روزہ افطار کرنے پر مجبور ہے لیکن مجاہد جب عملی طور پر جنگ میں مشغول نہ ہو پھر بھی اسے ثواب ملتا رہتا ہے۔
اس لحاظ سے جہاد زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
(2)
مال غنیمت مجاہد کے لیے ایک انعام ہے کیونکہ وہ اسے بھی نیکی کے کاموں میں خرچ کرتا ہے۔
اس طرح مزید ثواب حاصل کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2754 سے ماخوذ ہے۔